30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یونہی اگراپنے مال کاثلث ماموں زاد بھائی کو لکھ دیں تو کسی حال میں کچھ مضائقہ نہیں،ترکہ پدری سے جو حصہ ان کاتھا یہ اگر نقل صحیح شرعی مثل بیع یابعد تقسیم ہبہ مع القبض کے ذریعہ سے برادران علاتی کونہیں دے دیاہے تووہ بدستور ان کی مِلك پرباقی ہے مطالبہ نہ کرنے یا یونہی چھوڑدینے سے ان کی ملك سے خارج نہ ہوا دوثلث جوبرادران علاتی کے لئے باقی چھوڑیں ان میں وہ حصہ بھی محسوب کرسکتے ہیں مثلًا ان کاوہ حصہ جو ان کے قبضہ میں ہے اگردوہزار کاہے اور اس کے علاوہ جائداد پیداکردہ ہزار روپے کی ہے تویہ کل جائداد جدیدماموں زادبھائی کو دے سکتے ہیں کہ دوثلث ان کے پاس خود موجود ہے او ریہ نئی جائداد چارہزار کی ہے تو اس میں سے نصف ماموں زادبھائی کو دے دیں کہ نصف یہ اور وہ حصہ مل کر دوثلث ہوجائیں وعلٰی ھٰذا القیاس، واﷲ سبحانہ،وتعالٰی اعلم(اور اسی پرقیاس ہوگا،اور اﷲ سبحانہ،وتعالٰی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۵۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئی اور تین شخص قرابتی اس کے باقی رہے جس میں ایك حقیقی چچازادبہن اورایك بھائی ماموں زادااورایك بہن ماموں زادہے،پس ان تینوں میں ترکہ کس طرح پرتقسیم ہوگا؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر عدم موانع ارث ووارث دیگروتقدیم دین ووصیت ترکہ ہندہ کانوسہام پرمنقسم ہوکرچھ سہم چچازاد بہن اوردوماموں زاد بھائی اور ایك ماموں زاد بہن کوملے گا۔
|
فی الشریفیۃ ان استودا فی القرب ولٰکن اختلف قرابتھم بان کان بعضھم من جانب الاب وبعض من جانب الام فلا اعتبار ھٰھنا لقوۃ القرابۃ ولالولد العصبۃ فی ظاھر الروایۃ ولالولد العصبۃ فی ظاھر الروایۃ فبنت العم لیست اولٰی من بنت الخال لعدم اعتبار کون بنت العم ولدا العصبۃ لکن الثلثین لمن یدلی بقرابۃ الاب |
شریفیہ میں ہے اگر وہ قرابت میں برابرہوں لیکن جہت قرابت میں مختلف ہوں جیسے بعض باپ کی جہت سے اور بعض ماں کی جہت سے ہوں تو یہاں ظاہرالروایۃ کے مطابق قوت قرابت اورعصبہ کی اولاد ہونے کاکوئی اعتبار نہیں چنانچہ چچا کی بیٹی خالہ کی بیٹی سے اولٰی نہیں ہوگی کیونکہ یہاں اس بات کااعتبار نہیں کہ چچا کی بیٹی عصبہ ہے لیکن جوباپ کی قرابت کے واسطے سے میت کی طرف منسوب ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع