30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اتم وحکمہ احکم۔ |
کامل اوراس کاحکم مضبوط ہے۔(ت) |
مسئلہ ۵۵: ازڈونگر گڑھ ضلع رائے پور سنٹرل پرونسس مسئولہ شیخ حسن الدین احمدخاں صاحب ۱۱شعبان ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں ایك صاحب محمدعبدالکریم خاں ڈاکٹر نہایت عابد متقی لاولد ہیں جائداد بہت ہے،خاص ان کی ذاتی پیداکی ہوئی ہے موروثی نہیں اپنے والد کی جائداد مین سے ایك حبّہ نہ لیاکل جائداد پر ان کے علاتی بھائی قابض ہوگئے،ڈاکٹرصاحب کے کوئی بھائی بہن حقیقی نہیں ان کی خواہش ہے کہ کل جائداد اپنے ماموں زادبھائی کے نام کرکے مکہ معظمہ چلاجاؤں مگریہاں کے دیوان جواہل اسلام ہیں فرماتے ہیں کہ اس تحریر سے کچھ نہ ہوگا اس کے حقدارعلاتی بھائی بھی ہوں گے،لہٰذا ڈاکٹر صاحب فتوٰی چاہتے ہیں۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
اگربذریعہ بیع صحیح یاہبہ مع القبض اپنی تمام جائداد اپنے بھائی ماموں زاد کودے دیں گے وہ مالك مستقل ہوجائے گا علاتی بھائیوں کا کوئی استحقاق نہ ہ وگا مگریہ فعل اگربلاوجہ شرعی برادران علاتی کو اپنے ترکہ سے محروم کرنے کی غرض سے ہوگا توگناہ ہوگا،حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من فر من میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ[1]۔ |
جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالٰی روزقیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے گا۔ |
ہاں اگر وہ لوگ فسّاق فجّار ہوں کہ جائداد کومعاصی الٰہی میں صرف کریں گے اور ماموں زادبھائی ایسانہیں توجائزبلکہ بہترہے۔
|
فی وجیزالامام الکردری ان اراد ان یصرف مالہ الی الخیر وابنہ فاسق فالصرف الی الخیر افضل من ترکہ لانہ اعانۃ علی المعصیۃ[2]۔ |
امام کردی کی وجیز میں ہے اگرکوئی شخص چاہتاہے کہ وہ اپنامال نیکی کے کام میں خرچ کرے درانحالیکہ اس کابیٹا فاسق ہے تو اس بیٹے کے لئے مال چھوڑجانے سے نیکی کے کام میں خرچ کر دیناافضل ہے کیونکہ اس کے لئے مال چھوڑنا گناہ پر مدد ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع