30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں وہ روپیہ زوجہ ثانیہ کودلایاجائے گایانہیں؟ اور تقسیم ترکہ کس حساب سے ہوگی اورزوجہ اولٰی کہ زید سے پہلے مرگئی مستحق حصہ پانے کی ہے یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر ورثہ میت نابالغین ہوں تو اس کاوصی اوروصی نہ ہوتو حاکم کوئی وصی نصب کرے کہ وہ شیئ مرہون کوبیع کرکے دین مرتہن اداکرے درمختار ص۶۲۳،اور جوکبارہوں تو وہ خودچھٹالیں ٍسہً،اگرترکہ دین مرتہن ومہرزوجیت ودیگر دیون کووفانہ کرے توپہے دین مرتہن اداکیاجائے بعدہ،اگرباقی بچے تو دیگردیون حصہ رسد اگرسب دین صحت یادین مرض ہوں ورنہ دین صحت مقدم ہوگا ٍفرائض۔بعدہ،اگرکچھ باقی ہے تو اس کے ثلث سے اورورثہ زیادہ کی اجازت دیں توزیادہ سے وصایا اس کے اگرہوں تونافذ کی جائیں پھرمابقی برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین ترکہ زید متوفی کا دوسو اٹھاسی سہام پرمنقسم ہوکر۳۶سہام زوجہ اور۴۸ماں پائیں گی اور۶۴/۶۴ ہرسہ دختران کو ملیں گے اور۶بھائی اور۳/۳ دونوں بہنیں پائیں گی۔واﷲ تعالٰی اعلم
صورت مستفسرہ میں جب وہ زیورخاص ملك زوجہ ثانیہ تھا اورزید نے اس کی اجازت سے پہلے قرض کے عوض رہن رکھا اور اس کے بعد وفات زوجہ نے وہ قرضہ ادا کردیاتو وہ بلاشبہہ اس قدرروپیہ ترکہ زید سے واپس پائے گی،
|
فی تنویرالابصار ولوافتکہ المعیر اجبرالمرتہن علی القبول ثم یرجع المعیر علی الراھن بماادی[1]اھ |
تنویرالابصار میں ہے اگرعاریت پردینے والا رہن کوچھڑائے تومرتہن کوقبول کرنے پرمجبور کیاجائے گا،پھرعاریت پردینے والے نے جوکچھ اداکیاہے،وہ راہن سے اس کارجوع کرسکتاہے اھ(ت) |
اسی طرح وہ قرضہ دوسروں کاجوذمہ زیدہے اور دونوں زوجہ کامہراگرباقی ہوالخ۔
مسئلہ ۵۲:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بازاری عورت کے بلانکاح ایك لڑکازیداورتین لڑکیاں لیلٰی،سلمٰی، عذرا پیداہوئیں وہ عورت مرگئی اور اس کا بیٹازید ایك بیٹا عمرو چھوڑ مرا اورلیلٰی سلمٰی نے نکاح کرلئے اب لیلٰی نے بھی سلمٰی،عذرا دوبہنیں اورعمرو بھتیجا اورایك شوہرچھوڑ کرانتقال کیا۔اس صورت میں ترکہ لیلٰی کاکیونکر منقسم ہوگا اورعذرا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع