30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ تھی وہ اس سے بری رہے گا والمسئلۃ فی الفرائض من الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار(یہ مسئلہ درمختارپرحاشیہ طحطاویہ کے فرائض میں سے ہے۔ت)علٰی الخصوص دونوں نابالغ کہ ان کے ذمہ تو ہرگزنہیں ہوسکتا اگرچہ انہوں نے اجازت بھی دے دی ہو وھذا ظاھر جدا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)اوربعینہٖ یہی حال صرف شادی کاہے جس نے صرف کیا فقط وہی اس کا متحمل ہوگا اجازت نہ دینے والوں یانابالغوں کو اس سے کچھ تعلق نہیں وہ اپنا حصہ متروکہ پدری سے پورا پوراپائیں گے اورصَرف شادی کامطالبہ صرف دختر سے نہیں ہوسکتا مگریہ کہ اس سے ٹھہرالیاہو کہ ہم یہ سارا صَرف تیرے حساب میں مجرا لیں گے،
|
وذٰلك لان ماکانوا مضطرین فی ذٰلك وماسبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت اوقضی دین غیرہ بلااذنہ والمسئلتان فی الدرالمختار[1] والعقود الدریۃ۔ |
یہ اس لئے ہے کہ وہ اس میں مجبورنہیں تھے نہ اس کی یہ سبیل ہے لہٰذاایساکرنے والا متبرع قرارپائے گا سوائے اس کے کہ اس نے رجوع کی شرط کی ہو جیسا کہ کوئی اجنبی میت کو کفن پہنائے یاکسی کی اجازت کے بغیر اس کا قرض اداکردے۔یہ دونوں مسئلے درمختار اورعقودالدریہ میں مذکورہیں(ت) |
اورمال ترکہ سے تجارت کہ دو۲بالغین برادروں نے بطور خود کی اس کے نفع کاصرف انہیں دونوں کو استحقاق ہے اور کوئی وارث اس میں شریك نہیں،مگرہاں اس قدرضرورہے کہ جو نفع حاصل ہوا وہ بقدران کے حصوں کے ان کے لئے طیب ہے باقی خبیث۔انہیں چاہئے کہ اس قدرباقی ورثہ کو بحساب ان کے حصوں کو دے دیں یاخیرات کردیں اپنے صرف میں نہ لائیں۔مثلًا فرض کیجئے کہ ؎ روپیہ نفع میں حاصل ہوئے و اس میں للعہ عہ تو ان کے لئے پاك ہیں کہ بھائی کو معہ اورعہ عہ ناپاك ان عہ عہ کو یاتصدق کردیں یا ان میں سے للعہ عہ دونوں برادران نابالغ کودے دیں اور عہ ۸/ ہمشیرہ کو اور للعہ والدہ کو،اور یہی صورت بہتر ہے۔
|
فی العقود الدریۃ نقل المؤلف عن الفتاوٰی الرحیمیۃ سئل عن مال |
العقود الدریہ میں ہے مؤلف نے فتاوٰی الرحیمیہ سے نقل کیا ہے ایسے مال کے بارے میں سوال |
[1] الدرالمختار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۹،العقودالدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ارگ بازارقندھارافغانستان ۲ /۳۲۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع