30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاغتنمہ[1] اھ،وفی متفرقات غصب الندیۃ اذا غزلت المرأۃ قطن زوجہا فان اذن لہا بالغزل وقال اغزلیہ لنفسك کان الغزل لہا ولو قال اغزلیہ ولم یذکر شیأ کان الغزل للزوج[2] اھ بالالتقاط۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
زمین کو عاریت پرلینے والا قرارپائے گا الخ اور اس کے آخر میں یہ قول لکھاکہ تو اس کوغنیمت جان اھ۔ہندیہ میں کتاب الغصب کے متفرقات میں ہے ایك عورت نے اپنے شوہر کی روئی سے سوت کاتا،اگرشوہر نے اس کوکاتنے کی اجازت دی اورکہا کہ تو اس کواپنے لئے کات لے(صاحب ہندیہ نے کہا) تو وہ سوت عورت کاہوگا،اوراگرکہا کہ تو اس کوکات لے،اس کے علاوہ کچھ ذکرنہیں کیاتو سوت شوہرکاہوگا اھ التقاط۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۴۹:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اورچارپسر دونابالغ اورایك دختر بالغہ چھوڑ کرانتقال کیا اور کچھ روپیہ زید کالوگوں پرقرض اورکچھ نقدتھا اس میں نقد سے تین سوروپے والدہ ودوبرادران بالغ کی رضامندی سے دختر کی شادی اور کچھ روپے زید کی فاتحہ ودرودمیں صرف ہوئے اوردوسرے برادران بالغ نے بطور خود تجارت کی اور اس کے نفع کاقدرے روپیہ بھی فاتحہ زید میں اٹھایا۔اس صورت میں ترکہ زیدمکان وقرض ونقد کیونکر تقسیم ہوگا اور صرف شادی وفاتحہ کس کس پرپڑے گا اور کل مصارف شادی یہ ورثہ اس دختر سے مجرا لے سکتے ہیں یانہیں؟ اورنفع تجارت کاصرف انہیں دو برادران کواستحقاق ہے یاکل وارث اس میں بھی شریك ہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی قعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کاداء المہرواجراء الوصیۃ،کل متروکہ زید مکان وقرض ونقدبہترسہام پرمنقسم ہوکر نوسہام اس کی زوجہ اورچودہ ہرپسر اورسات دختر کوملیں گے اورصرف فاتحہ کاخواہ ترکہ میں سے ہوا ہو یاجدامال سے جس جس نے کیا انہیں کے ذمہ پڑے گا اور جس کی اجازت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع