30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الہدایۃ ان القسمۃ مؤخرۃ قضاء الدین لحق المیت الا اذا بقی من الترکۃ مایفی بالدین فاذا قسمت جاز[1] اھ ملتقطا۔واﷲ تعالٰی اعلم |
سے بحوالہ قسمۃ الہدایۃ(ہدایۃ کی کتاب القسمۃ)منقول ہے کہ حق میت کی وجہ سے میراث کی تقسیم قرض کی ادائیگی سے موخرہوگی مگرجبکہ تقسیم کے بعد ترکہ میں سے اتنامال باقی بچتاہے جوقرض کی ادائیگی کے لئے کافی ہے توایسی صورت میں اگرترکہ تقسیم کردیاگیا توجائزہے اھ التقاط۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۴۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدفوت ہوا اورترکہ اس کا عوض دین مہرزوجہ ہندہ مکفول تھا،عمرووارث نے نالش انفکاك رہن کرکے بادائے ایك سوتریسٹھ۱۶۳ روپیہ دین مہر کے دائرکرکے ڈگری حاصل کی اور کل دین مہرزوجہ ہندہ کو بلاتبرع اداکردیا،بعدہ،ہندہ نے اپناحصہ بدست مسماۃ حسینی دختراپنی کے بیع کردیا،اب حسینی بلاادائے دین کے ترکہ مورث تقسیم کردیناچاہتی ہے،اس صورت میں بلاادائے دین مہررسدی کے حسینی حصہ اپنی ماں کاتقسیم کراسکتی ہے یانہیں؟ بیّنوا توجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
جبکہ عمرو نے اپنے زرخاص سے دین مہرہندہ بلاتبرع اداکیا تو وہ ترکہ جس طرح پہلے دین ہندہ کے لئے محبوس تھا اب دین عمرو کے لئے محبوس ہوگیا،
|
ذکر ذٰلك فی الحموی ان الوارث لولم یشترط التبرع لم تخلص الترکۃ من الدین لانہ صار محبوسا من حق الوارث[2]۔ |
اس کو حموی میں ذکرکیاہے کہ اگروارث تبرع کی شرط نہ کرے توترکہ قرض سے واگزارنہیں ہوگا کیونکہ وہ وارث کے حق میں محبوس ہوجائے گا(ت) |
حتی کہ جب تك دین عمرو متروکہ زید سے ادانہ کیاجائے یاورثہ اپنے مال خاص سے بطریق تبرع قضانہ کردیں اس ترکہ میں کوئی تصرف ورثہ کامثل بیع وہبہ وغیرہما کے بلااجازت عمرومذہب راجح پرنافذ نہیں ہوسکتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع