30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بقدرحصہ رسدی دین مہر کے عمرو کو دیناچاہئے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
سائل مظہر کہ یہ قبضہ زوجہ کا بذریعہ ہبہ بالعوض نہ تھا بلکہ جائداد دین مہر میں صرف مکفول تھی،پس صورت مستفسرہ میں اگر عمرو نے دین مہرزوجہ اس شرط پر اداکیاتھا کہ یہ اپنے پاس سے بطریق تبرع دیتاہوں اورترکہ میت سے واپس نہ لوں گا تو ذمہ میت دین سے بری ہوا اور عمرو اس کامطالبہ ترکہ میت خواہ ورثہ باقین سے نہیں کرسکتا اورجو یہ شرط نہ لگائی تھی تو اس قدردین عمرو کاذمہ میت عائد رہا تاوقتیکہ اس ترکہ مشرکہ سے ادانہ کردیاجائے تقسیم نہ ہونے پائیگی مگریہ باقی ورثہ دین عمرو کو حصہ رسد اپنے پاس سے اپنے مال خاص سے اداکردیں اگرچہ یہ امر ان پرلازم نہیں کہ مدیون عمرومیت ہے"نہ ورثہ"یا دین مذکور ترکہ سے کم ہے اور اس جائداد کے سوا جس کی تقسیم مطلوب ہے اور مال بھی متوفی نے چھوڑا ہو جوادائے دین مسطور کے لئے کفایت کرے تو اس صورت میں بھی اس قدرجائداد کی تقسیم جائزہوگی اور دین عمرومال باقی غیرمقسوم سے اداکیاجائے گا۔
|
فی الاشباہ عن جامع الفصولین من الفصل الثامن والعشرین لواستغرقہا دین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء اما لواداہ من مال نفسہ مطلقا بشرط التبرع او الرجوع یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین[1] الخ وفیہ بعد سطور للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا[2] اھ وفی العقود الدریۃ عن الفصول العمادیۃ عن قسمۃ |
اشباہ میں جامع الفصولین کی اٹھائیسویں فصل سے منقول ہے اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرلے تو بطورمیراث اس کاکوئی وارث نہیں ہوگا جبکہ قرضخواہ میت کو قرض سے بری کردے یاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کرتے ہوئے اس قرض کواداکردے۔لیکن جب وارث نے تبرع اور رجوع کی شرط کئے بغیرمطلقًا اپنے مال سے قرض اداکیاتومیت پر اس وارث کا قرض واجب ہوجائے گا۔اسی طرح وہ ترکہ وارث کے قرض میں مشغول ہوجائے گا الخ اور اسی میں چندسطروں کے بعدہے وارث کے لئے جائزہے کہ وہ قرض اداکرکے ترکہ کو وا گزارکرالے اگرچہ وہ قرض ترکہ کومحیط ہوالخ۔عقودالدریۃ میں فصول العمادیہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع