30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ام لا اجاب ان لم تکن الترکۃ مستغرقۃ بالدین لا ینفذ بیعہ الا فی حصتہ فلبقیۃ الورثۃ نقضہ فی حصصھم و ان کانت مستغرقۃ بہ لاینفذ بیعہ فی حصتہ اذا کان بغیر اذن الغرماء اوبغیر اذن القاضی فللغرماء نقضہ والحال ھذہ واﷲ اعلم[1] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کویہ بیع توڑنے کا حق ہے یانہیں؟ آپ نے جواب دیا اگرقرض نے ترکہ کا احاطہ نہیں کیاہوا تو بیع فقط فروخت کرنے والے کے حصہ میں نافذ ہوگی باقی وارثوں کو اپنے حصوں میں بیع کے توڑنے کا حق ہوگا اور اگرقرض نے ترکہ کا احاطہ کیاہوا ہے توخود بائع کے حصہ میں بھی بیع نافذ نہ ہوگی جبکہ وہ بیع قرضخواہوں اور قاضی کی اجازت کے بغیر ہو اورقرضخواہوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ بیع کو توڑدیں۔یہاں صورت حال ایسی ہی ہے اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے اھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۴۴:(مسئلہ مذکورنہیں غالبًا یوں ہوناچاہئے،کوئی شخص فوت ہوا جس کا قرض ترکہ کو محیط ہے۔ایك بیٹا زید او ردوبیٹیاں کبرٰی اورصغرٰی اس کی وارث ہیں،قرض کی ادائیگی کے لئے زید اور صغرٰی جائداد بیچناچاہتے ہیں جبکہ کبرٰی اس سے منع کرتی ہے،کیا وہ قرض کی ادائیگی کے لئے ترکہ کی جائداد فروخت کرسکتے ہیں،اور کیا کبرٰی کو منع کاحق ہے؟)
الجواب:
زیدوصغرٰی کو بے رضائے ارباب دیون بیع ترکہ کا اختیارنہیں اور اگربیع کریں گے تونافذ نہ ہوگی کہ دین ترکہ کو مستغرق ہے۔
|
فی الاشباہ ولاینفذ بیع الوارث الترکۃ المستغرقۃ بالدین و انما یبیعہ القاضی [2] قال الحموی قولہ ولا ینفذ بیع الوارث الخ یعنی ان بیعہ موقوف |
الاشباہ میں ہے:وارث کا ایسے ترکہ کی بیع کرنا نافذ نہ ہوگا جو قرض میں گھراہواہے،فقط قاضی اس کی بیع کرسکتاہے۔ حموی نے فرمایا کہ صاحب اشباہ کے قول"وارث کی بیع نافذ نہ ہوگی"سے مراد یہ ہے کہ اس کی بیع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع