30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوٰی تقسیم بلاتصفیہ مہرہوسکتاہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
تقریرسوال سے ظاہر کہ دین ترکہ کومحیط تھا اور درصورت احاطہ دین ورثہ کے لئے ترکہ میں ملك ثابت نہیں ہوتی نہ بے فراغ ذمہ بادایاابراء باہم تقسیم کرسکیں۔
|
فی الاشباہ والنظائر الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث قال فی جامع الفصولین من الفصل الثامن و العشرین لواستغرقہا الدین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ او اداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء الخ[1]۔ |
الاشباہ والنظائر میں ہے جوقرض ترکہ کااحاطہ کرنے والا ہو وہ ملك وارث سے مانع ہے،جامع الفصولین کی اٹھائیسویں فصل میں ہے اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرے تو بطورمیراث کوئی اس کا مالك نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ قرضخواہ میت کوبری الذمہ قراردے دے یاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کرتے ہوئے اس کو اداکردے الخ(ت) |
پس زوجہ زید نے کہ جائداد متروکہ بیچ کر زید کو باردیون سے سبکدوش کیا اور ان قرضخواہوں میں ایك خود وہ تھی جس نے آپ کچھ نہ لیا اور باقی دائنوں نے جنہیں اختیار نقض بیع حاصل تھاثمن مبیعہ سے اپنااپنا قرض لیا اور بیع پرکچھ اعتراض نہ کیا تو اب ورثہ زید کہ بغرض تقسیم وتصرف بے جا بے قصد استخلاص ترکہ بادائے مہرو دیگر دیون دعوی کرتے ہیں یہ دعوی ان کامحض نام قبول اورشرعًا قابل سماعت سے معزول۔
|
فی فتاوی الفاضل العلامۃ خیرالدین الرملی رحمۃ اﷲ علیہ سُئل فی رجل مات وعلیہ دین فباع بعض ورثتہ شیئا من عقارہ فی وفاء دینہ ھل لبقیۃ ورثتہ نقضہ |
فاضل علامہ خیرالدین رملی علیہ الرحمہ کے فتاوٰی میں ہے کہ اس شخص کے بارے میں پوچھاگیا جس پرقرض تھا اور وہ مرگیا تو اس کے بعض وارثوں نے اس کاقرض اداکرنے کے لئے میت کی جائداد کاکچھ حصہ فروخت کردیا،کیاباقی وارثوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع