30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۴۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حیات ایك دخترسارہ اور ایك شوہر امیرالدین وارث اپنے چھوڑ کر فوت ہوئی بعدہ شوہر کا زوجہ فتح خاتون اورمریم اورتین پسرعلاء الدین بطن فتح خاتون سے اورحمید الدین،بشیرالدین بطن مریم سے اور تین دختر سارہ بطن حیات خاتون اورسکینہ وہندہ بطن مریم سے وارث اپنے چھوڑ کرمرگیا اورامیرالدین نے اپنی حیات میں بحالت نفاذ تصرفات ایك حصہ اپنی جائداد کافتح خاتون اورعلاء الدین کودے کرالگ کردیاتھا اس صورت میں امیرالدین کو متروکہ حیات خاتون سے کیاملے گا اور وہ ورثہ امیرالدین پرکیونکر تقسیم ہوگا اورفتح خاتون و علاء الدین بھی ترکہ امیرالدین سے حصہ پائیں گے یابسبب اس کے کہ وہ بقدراپنے حصص کے حیات مورث میں لے کرجداہوگئے تھے اب نہ پائیں گے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی الخ متروکہ حیات خاتون سے چہارم امیرالدین کوملے گا اوروہ مثل اس کے اور متروکات کے بشرط عدم موانع ارث ووارث اخروتقدیم دیون ومہور زنان و وصایا ۱۴۴ سہام پرمنقسم ہوکر ۹،۹سہام فتح خاتون و مریم اور ۲۸،۲۸علاء الدین وحمیدالدین و بشیرالدین اور ۱۴،۱۴سارہ وسکینہ وہندہ کوملیں گے اورامیرالدین کے فتح خاتون وعلاء الدین کوایك پارہ جائداد دے کرالگ کردینا مانع ارث نہیں مگر ہاں اگریہ دینابطریق تصالح وتخارج تھا یعنی امیرالدین نے وہ جائداد ان دونوں کو اس شرط سے دی تھی کہ یہ میں تمہارے اس حصہ میں دیتاہوں جوتمہیں بعد میرے پہنچے اب تمہیں میرے بعد میری جائداد میں استحقاق میراث نہیں اور انہوں نے اس معنی کوقبول کرلیا اور اس پرراضی ہوگئے تو اب انہیں دعوی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنا حصہ برضائے خود پہلے ہی لے چکے صرح بذٰلك الشیخ العلامۃ عبدالقادر فی الطبقات(شیخ علامہ عبدالقادر نے طبقات میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید فوت ہوا اور جائداد پرقبضہ چھوڑا اور دین مہر(لہ صہ)روپیہ چھوڑا کچھ جائداد وصی وارثوں نے اپنے قبضہ میں لے لی،بقیہ جائداد مسماۃ نے یعنی زوجہ متوفی نے بہ مجبوری بہ خوف کمی قیمت تصفیہ دین مہرفروخت کرکے قرضہ شوہر اداکیا اور آپ کچھ نہ لیا،اب ورثہ دعوٰی کرتے ہیں پس بلاادائے مہراور قرضہ یہ دعوٰی صحیح ہے یانہیں؟ اور شرعًا ایسی بیع درست ہے یانہیں؟ اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع