30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چوتھے اس کی تصریح فرمائیے کہ شوہر اپنی حین حیات میں جوزیورات اورکپڑے کہ اپنی زوجہ کو پہنادئیے یاپہننے کو دے دئیے تو وہ زوجہ کاہوجاتاہے یانہیں یعنی اگرشوہرمرجائے تو وہ زیورات اورکپڑے زوجہ سے واپس لے کر شامل ترکہ کریں گے یا نہیں؟بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بحالت صحت واختصاص وراثت وتقدیم دین ووصیت،ترکہ احمدی بی بی بارہ سہم پرتقسیم ہوکر دوسہم مادر،چھ شوہر،دوبرادر، ایك ایك ہرخواہر کاہوا۔شوہر جوزیوراپنی عورت کوپہنائے اگرصراحۃً دلالۃً لفظًا عرفًا کسی طرح ثابت ہوکہ اس سے مقصود زوجہ کومالك کردیناہے توعورت بعد قبضہ مالك ہوجاتی ہے ورنہ نہیں۔یہی حال ثیاب ونفقہ کے سوا ان بھاری گرانبہا جوڑوں کاہے جوشادی براتوں میں آنے جانے کے لئے پہنتے ہیں عورت کاصرف پہننا برتنادلیل مِلك نہیں کہ زن وشوہر اپنے اپنے باہمی انبساط کے باعث ایك دوسرے کے مِلك سے تمتع کیا ہی کرتے ہیں۔ بحرالرائق و عقودالدریہ میں ہے:
|
لایکون استمتاعھا بمشربہ ورضاہ بذٰلك دلیلا علی ان ملکہا ذٰلك کما تفھمہ النساء والعوام و قد افتیت بذٰلك مرارا [1]۔ |
عورت کاشوہر کی خواہش اوررضامندی سے زیور وغیرہ سے نفع اٹھانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عورت کی ملك ہے جیسا کہ عورتیں اورعوام سمجھتے ہیں حالانکہ میں کئی بار یہ فتوٰی دے چکاہوں۔(ت) |
پس وہ زیور کہ شوہر احمدی بی بی نے اپنی زوجہ ثانیہ کوپہنایا اور وہ برتن کہ عزیز کودئیے اگر ان میں دلیل ہبہ وتملیك ثابت نہ ہوجب توظاہر ہے کہ وہ زوجہ ثانیہ وعزیز مذکور سے واپس لے کروارثان شوہر وبقیہ ورثہ احمدی بی بی پرنصفا نصف منقسم ہوں گے۔ہرچیز کانصف کہ حق شوہر تھا زوجہ ثانیہ ودیگرورثہ شوہر کوحسب فرائض پہنچے گا اور نصف باقی انہیں چھ سہام مذکورہ ہر مادروبرادر وخواہران احمدی بی بی کو اور اگرثابت ہوکہ شوہر نے یہ زیور،برتن زوجہ وعزیز کوہبہ کردئیے تھے تاہم وہ ہبہ ہرشیئ کے نصف میں کہ مملوك بقیہ ورثہ احمدی بی بی تھا بوجہ ناراضی مالکان باطل و
[1] العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی لایکون استمتاع المرأۃ بما اشتراہ زوجہا الخ ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع