30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقت ترکہ میں وہ حصہ جائداد بھی شامل کیاجائے جولڑکیوں کے باپ کی جائداد متروکہ مشترکہ میں سے ہوتایانہیں،اورواضح رہے کہ وہ جائداد اوّلًا شاہ محمد عیسٰی،شاہ محمد فصاحت میں مشترك تھی۔پھربعد انتقال شاہ محمدعیسٰی کے ان کے لڑکے اور شاہ محمدیعقوب وشاہ محمد فصاحت میں مشترك رہی اور آج تك بدستور مشترك ہے صرف نام تینوں آدمیوں کاکاغذات سرکاری میں داخل ہے لیکن تحصیل وصول انتظام وغیرہ سب ایك جابالا شتراك ہوتاہے آپس میں بقدرحصہ کے لوگ تقسیم کرلیتے ہیں۔ لڑکیوں نے اپنی حیات میں اپناحصہ بھی نہیں مانگا اور نہ دینے کاعرف ہے۔خلاصہ یہ کہ اس جائداد میں جومشترك درمشترك ہے(یعنی پہلااشتراك ابن شاہ محمدعیسٰی و شاہ محمدیعقوب وشاہ محمدفصاحت میں اور دوسرا اشتراك شاہ محمد عیسٰی کے لڑکے اورلڑکیوں میں)ان لڑکیوں کے شوہروں کاکچھ حق ہوتاہے کہ نہیں؟ تفصیل سے حوالہ قلم فرمائیے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
ارث جبری ہے کہ موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالك ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگے،لے یانہ لے،دینے کاعرف ہویانہ ہو،اگرچہ کتنی ہی مدت ترك کوگزر جائے،کتنے ہی اشتراك دراشتراك کی نوبت آئے اصلًا کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گی،نہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہے،یہاں تك کہ نہ مانگنا درکنار اگر وارث صراحۃً کہہ دے کہ میں نے اپناحصہ چھوڑ دیا جب بھی اس کی مِلك زائل نہ ہوگی توشاہ محمدعیسٰی کے ترکہ میں بشرط عدم مانع ارث و وارث آخر وتقدیم دین ووصیت،ہردختر سات سہام سے ایك سہم کی مالك ہوئی اور ہردختر کے متروکہ سے بشرائط مذکورہ اگرلاولد تھی شوہر نصف ورنہ ربع کاجس کے ثبوت میں دوآیہ قرآنیہ:
|
"یُوۡصِیۡکُمُ اللہُ فِیۡۤ اَوْلٰدِکُمْ ٭ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ"[1] وقولہ تعالٰی " وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ |
اﷲ تعالٰی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔(ت) اور اس کافرمان ہے اور تمہاری بیبیاں جو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع