30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور جس طرح اُخت تائبہ غیرتائبہ کی وارث ہوتی ہے یونہی غیرتائبہ تائبہ کی وارث ہوگی کہ زانیہ ہوناموانع میراث سے نہیں، ہاں بخیال مذکورتائبہ کااپنے مال کو وجوہ خیرمیں صَرف کردینا اور فاحشہ کے لئے میراث نہ چھوڑنا بتصریح علماء جائزبلکہ یہی افضل وبہترہے۔خلاصہ میں ہے:
|
لوکان ولدہ فاسقا فارادان یصرف الٰی وجوہ الخیرہ ویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ[1]۔ |
اگرکسی شخص کی اولاد فاسق ہو اور وہ شخص چاہے کہ اپنامال نیکی کے کاموں میں خرچ کرے اور فاسق اولاد کومیراث سے محروم کردے۔تو یہ فاسق اولاد کے لئے مال چھوڑنے سے بہترہے۔(ت) |
بزازیہ میں ہے:
|
ان اراد ان یصرف مالہ الی الخیر وابنہ فاسق فالصرف الی الخیر افضل من ترکہ لہ لانہ اعانۃ علی المعصیۃ[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگرکسی نے ارادہ کیاکہ وہ اپنا مال نیك کام میں خرچ کرے اس حال میں کہ اس کا بیٹا فاسق ہو۔اس بیٹے کے لئے مال چھوڑنے سے نیك کام میں خرچ کرناافضل ہے کیونکہ اس کے لئے مال چھوڑنا گناہ پرمدد کرناہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۶ و ۳۷: ازلکھنؤ محمودنگر اصح المطابع مرسلہ مولوی محمدعبدالعلی صاحب مدراسی ۱۷صفر۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مصرحہ ذیل میں:
سوال اوّل
شاہ محمدعیسٰی وشاہ محمدیعقوب وشاہ محمد فصاحت ہرسہ برادران حقیقی ایك جائداد مشترك پرقابض ودخیل تھے،شاہ محمد عیسٰی نے انتقال کیا،دولڑکے تین لڑکیاں چھوڑیں،لڑکے نے دو لڑکیوں کانکاح مختلف جگہوں پرکردیا،وہ دونوں چندروز کے بعد مرگئیں۔اب تقسیم ترکہ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع