30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ٹھیك چھ مہینے پریا چھ مہینے کے اندرپیدا ہو یا اس کی ماں موت یاطلاق کی عدت میں ہو اور اس کے پیداہونے تك عدت گزرجانے کااقرارنہ کرے یاباقی وارث اقرار کرتے ہوں کہ یہ بچہ وقت موت میت اپنی ماں کے پیٹ میں تھا۔سائل مظہر کہ یہاں یہ صورتیں نہ تھیں کہ لڑکا موت ہندہ سے سال بھربعد پیدا ہوا اور اس کاباپ زندہ رہا اور ماں کو طلاق بھی نہ ہوئی کہ عدت میں ہوتی اور دیگر ورثہ کو تسلیم بھی نہیں کہ یہ وقت موت ہندہ اپنی ماں کے حمل میں تھا۔پس صورت مستفسرہ میں بر تقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کالدین والوصیۃ ترکہ ہندہ کانو سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم اس کی ماں اور دودوہرحقیقی چچا کو ملیں گے،
|
فی ردالمحتار وان کان(ای الحمل)من غیرہ فانما یرث لو ولد لستۃ اشھر او اقل والا فلا الا اذا کانت معتدۃ و لم تقربا نقضائھا اواقرالورثۃ بوجودہ کما یعلم من سکب الانہر مع شرح ابن کمال وحاشیۃ یعقوب[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
ردالمحتار میں ہے اگرحمل میت کے غیرکا ہے تو وہ اس صورت میں وارث بنے گا اگروہ پورے چھ ماہ کی مدت میں یا اس سے کم ترمدت میں پیداہو،ورنہ نہیں بنے گا سوائے اس کے کہ اس کی ماں معتدہ ہو اور اس نے عدت گزرجانے کا اقرارنہ کیاہو یاوارث اقرارکریں کہ یہ مورث کی موت کے وقت موجود تھا جیسا کہ سکب الانہر مع شرح ابن کمال اور حاشیہ یعقوب سے معلوم ہوتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۴: ازپیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اورفضلائے شرع مبین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك شادی ہندہ سے کی اور بہ سبب ناچاقی طرفین کے ہندہ اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور بعد کو اسی زید نے ایك شادی ایك طوائف سے کی،بعدہ،زیدفوت ہوگیا،اوربعدفوت ہونے زید کے طوائف بھی فوت ہوگئی اور اس طوائف نے اپنی کچھ ملکیت چھوڑی،تو اس ملکیت کامالك کون ہوگا جبکہ طوائف لاولد ہے آیا زیدکابھائی بہن یاہندہ یاکون ہوگا؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع