30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وتمامہٖ فی المنح [1]پس دعوی شوہربجائے خودست آنچہ ہنگام مرگ زن درملك زن بودہ ربع اوبشرط عدم موانع ارث وتقدیم ماتقدم کالدین والوصیۃ بشوہرش می رسد وہیچ حیف درمیراث لازم نیست کہ آنچہ پسرکلاں پیش ازموت مورثہ یافت اگرمابلکہ بروجہ صحیح شرعی تملیك اوکردہ بودآں مقدار از ارث خودبیروں رفت کہ ارث متعلق نہ شود جزبترکہ و ترکہ نیست جزآنکہ ہنگام موت مورث درملك اوست۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کہ وہ اجازت ان کاحق ثابت ہونے سے پہلے واقع ہوئی ہے کیونکہ ان کاحق موت کے وقت ثا بت ہوتاہے تو ان کے لئے جائزہے کہ وہ مورث کی وفات کے بعد اس کو رَد کردیں بخلاف مورث کی موت کے بعد ہونے والی اجازت کے کیونکہ وہ حق کے ثبوت اور اس کی تمامیت کے بعد واقع ہوئی ہے(المنح)،چنانچہ شوہر کا دعوٰی برمحل ہے،جوکچھ بوقت موت عورت کی ملکیت میں تھا اس کا چوتھا حصہ شوہر کوملے گا بشرطیکہ میراث سے روکنے والی کوئی چیز نہ پائی جائے،اور جو چیزیں میراث سے مقدم ہیں انہیں مقدم کردیاگیا ہو جیسے قرض اوروصیت۔اور میراث میں کوئی ظلم لازم نہیں آتا کیونکہ عورت کی موت سے پہلے جوکچھ اس کے بڑے بیٹے نے پایا اگر مابلکہ نے شرعی طریقے پر اس کومالك بنادیاتھا تو اتنی مقدار خودمیراث سے خارج ہوگئی کیونکہ میراث کاتعلق ترکہ کے ماسوا کے ساتھ نہیں ہوتا اورترکہ سوائے اس شیئ کے نہیں جو مورث کی موت کے وقت اس کی ملکیت میں ہو۔اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۳۳: ازاٹنگہ مرسلہ حامدحسین خاں ۱۰شوال ۲ ۱۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ماں اور تین حقیقی چچاوارث چھوڑے اور اس کی ماں کے،انتقال ہندہ سے سال بھر بعد،ایك لڑکاپیداہوا،پس ترکہ ہندہ کا کس طرح منقسم ہوگا؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
غیرمیت سے جوحمل ہو وہ صرف تین صورتوں میں وارث ہوسکتاہے،یاتو وقت موت میت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع