30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من القول فی الملك لایدخل فی ملك الانسان شیئ بغیر اختیارہ الا الارث اتفاقا و کذا الوصیۃ فی مسألۃ [1] الخ خاصہ بحالے آں وعدہ پیش ازثبوت ارث ہم درحیات مورث صورت بست وپیداست کہ سقوط پیش ازثبوت معنی ندارد الاتری ان المرأہ لو اسقطت حقھا من القسم کان لہا الرجوع قال فی غمز العیون انما جازلہا الرجوع لان حقہا لم یکن ثابتا بعد فیکون مجرد وعد فلایلزم کالمعیر[2]الخ ولہٰذا اگرمورث برائے وارثے وصیتے کرد ودیگران بحیاتش رضا دادندایں اجازت بجولے نیز زدوایشاں راپس ازمرگ مورث رجوع میرسد۔فی الدر المختار لاتعتبر اجازتھم حال حیاتہ اصلا بل بعد وفاتہ[3] فی ردالمحتار لانھا قبل ثبوت الحق لھم لان ثبوتہ عندالموت فکان لھم ان یردوہ بعد وفاتہ بخلاف الاجازۃ بعد الموت لانہ بعد ثبوت الحق |
اشباہ کے اندرملکیت کے قول میں ہے کہ انسان کی ملکیت میں اس کے اختیار کے بغیرکوئی شیئ داخل نہیں ہوتی مگرمیراث بالاتفاق اس کی ملکیت میں داخل ہوتی ہے اور اسی طرح وصیت ایك مسئلہ میں الخ خاص طورپر اس حال میں کہ وہ وعدہ بھی میراث کے ثبوت سے پہلے مورث کی زندگی میں رونما ہوا۔پس ظاہرہے کہ کسی چیز کے ثبوت سے پہلے اس کا ساقط ہوناکچھ معنی نہیں رکھتا۔کیاتو نہیں دیکھتا کہ عورت اگر اپنی باری کاحق ساقط کردے تو اسے رجوع کاحق ہوتاہے۔ غمز العیون میں کہاکہ اس کو رجوع کاحق اس لئے ہوتاہے کہ اس کاحق ابھی تك ثا بت نہیں ہوا تو یہ محض ایك وعدہ ہوگا جو لازم نہیں ہوتا جیسا کہ عاریت پردینے والاالخ اور یہی وجہ ہے کہ اگرمورث نے کسی وارث کے لئے وصیت کی اور دوسروں نے اس کی زندگی میں رضامندی ظاہرکردی تو یہ اجازت وجوب کے لائق نہیں اور ان وارثوں کومورث کے مرنے کے بعد رجوع کاحق حاصل ہے۔درمختار میں ہے مورث کی زندگی میں وارثوں کی اجازت بالکل معتبرنہیں بلکہ اس کی وفات کے بعد معتبرہے۔ردالمحتارمیں ہے اس لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع