30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قلت ورأیت فی جامع الفصولین قدم قبلہ عن السیر الکبیر للامام محمد ماھو الموافق للاصول والمرافق للمعقول والمنقول کما اشرنا الی کل ذٰلك فیما علقنا علٰی ردالمحتار امّا آں نیز بایں طورست کہ مورث ہریکے از ورثہ امالے دہدبرآں شرط کہ پس ازمرگ بہرہ ازامیرشش نباشد اینجا بعداستفسار حالے ظاہرشد کہ زن شوہر خود راچیزے ندادہ است بلکہ مالے بنام پسرپنجمین اوکہ از ہمخوابہ پیشین بودہ ہمراہ پسران خودش تعیین نمود وشوہر ہمبریں معنی راضی باسقاط حقش ازمیراث شد پس ایں نماند جز وعدہ تبرك ارث ووعدہ مجردہ جز قضا رانسزد فی الظھیریۃ والخانیۃ و الھندیۃ لایلزمہ الوفا بالمواعید[1]۔وفی الذخیرۃ و الھندیۃ ھذا وعد منہ ولایلزمہ بذٰلك شیئ[2]خاصہ در امرمیراث کہ ھم باختیار وارث نیست بَلکہ بناچار رسد فی الاشباہ |
میں ہے،میں کہتاہوں میں نے جامع الفصولین میں دیکھا کہ انہوں نے اس سے ماقبل امام محمد کی سیر کبیر سے وہ قول نقل فرمایا جو اصول کے موافق اورمعقول ومنقول کے مناسب ہے جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پراپنی تعلیق میں اس تمام کی طرف اشارہ کیاہے لیکن وہ بھی اس طورپر ہے کہ مورث وارثوں میں سے ہرایك کو اس شرط پرکچھ مال دے کہ اس کے مرنے کے بعد میراث میں ان کاکوئی حصہ نہیں ہوگا جبکہ اس جگہ تفتیش کے بعد یہ حالت ظاہرہوئی کہ عورت نے اپنے شوہر کو کوئی چیز نہیں دی بلکہ کچھ مال اپنے پانچویں بیٹے کے لئے جوکہ پہلے خاوند سے ہے اپنے دوسرے بیٹوں کے ساتھ مختص کیا۔ اورشوہر اس صورت پرمیراث میں سے اپناحق ساقط کرنے پر راضی ہوا،چنانچہ یہ میراث چھوڑنے کے وعدہ کے سواکچھ نہیں اور محض وعدہ سوائے قاضی کی قضا کے کسی شیئ کے لائق نہیں۔ظہیریہ،خانیہ اورہندیہ میں ہے کہ وعدوں کی وفا اس پرلازم نہیں۔ذخیرہ اورہندیہ میں ہے یہ اس کی طرف سے وعدہ ہواجس سے اس پرکچھ لازم نہیں آتا خصوصًا میراث کے معاملے میں جووارث کے اختیار سے نہیں بلکہ جبری طور پر اسے پہنچتی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع