30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس میں حفظ واصلاح ضروری کے سوا کسی تصرف مالکانہ کا اسے اصلًا اختیارنہ ہوگا جب تك اس سے کوئی خیانت ظاہرنہ ہو ورنہ اس کے قبضہ سے نکال کر کسی عادل ثقہ امین متقی خداترس کو سپرد کریں گے،فتح میں ہے:
|
رجل مات عن ابنتین وابن مفقود وابن ابن والمال فی یداجنبی لاینزع من یدالاجنبی الا اذا ظھرت خیانتہ فیوخذ منہ ویوضع علٰی یدعدل ولوکان فی ید البنتین لایحول المال من موضعہ ولوکان فی یدولدا المفقود یوقف فی ید من کان فی یدہٖ [1] اھ ملتقطًا۔ |
کوئی شخص دوبیٹیاں ایك مفقود بیٹا اور ایك پوتاچھوڑ کرمرگیا جبکہ اس کامال کسی اجنبی کے قبضہ میں ہے تو وہ مال اجنبی کے ہاتھ سے واپس نہیں لیاجائے گا مگر اس وقت جب اس کی خیانت ظاہرہوجائے اس صورت میں اس سے مال لے کر کسی عادل کے قبضہ میں دے دیاجائے گا،اور اگر مال دونوں بیٹیوں کے قبضہ میں ہے تو وہ مال اپنی جگہ سے نہیں ہٹایا جائے گا،اور اگروہ مقصود کی اولاد کے قبضہ میں ہے تو مفقود کا حصہ اسی کے ہاتھ میں موقوف رکھاجائے گا جس کے ہاتھ میں وہ ہے اھ ملتقطًا(ت) |
فقیرکہتاہے غفراﷲ تعالٰی لہ،امین نہ کریں گے اس پر مگرجومال غیر کو نارسوزاں جانتاہو اور قبول نہ کرے گا اسے مگرفاسق افسق یاغافل احمق یاعادل مرفق قلیل ماھم ھیہات ھیہات کہاں علم اور کہاں عدالت،لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ط واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹: ازتھانہ کچھا علاقہ خام ۲۳ربیع الاول ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام غوث نے اپنی پہلی بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی کی،پھردوسری کے انتقال ہوجانے کے بعد تیسری شادی کی،پہلی کا حقیقی بھائی اوردوسری کی ایك لڑکی جو اس کے ساتھ آئی تھی اور تیسری مع اپنے لڑکے کے جو ہمراہ آیاتھا زندہ ہے،تینوں عورتوں کامہرپینسٹھ پینسٹھ روپیہ کابندھاتھا،اب شرع شریف کے نزدیك کتنامہر کس کس وارث کو پہنچے گا؟ بیّنواتوجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع