30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امیرالحاج فی الحلیۃ والعلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ وغیرھما فی غیرھما انہ لایعدل عن درایۃ ماوافقتھا روایۃ[1] لاسیما وھو الارفق بالناس و الاوفق بالزمان فقد تقاصرت الاعمار وتعجلت المنون وحسبنااﷲ ونعم الوکیل فلذا عولنا علیہ فی جمیع فتاوٰنا وباﷲ التوفیق اخرج الترمذی عن ابی ھریرۃ وابویعلٰی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہما قالا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعمار امتی مابین الستین الی السبعین واقلھم من یجوز ذٰلک[2] سندہ حسن کما نص علی الحافظ فی فتح الباری، |
حِلیہ میں اور علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں،اور ان دونوں کے علاوہ دیگرعلماء نے دیگر کتابوں میں تصریح فرمائی کہ اس دِرایت سے عدول نہیں کیاجائے گا جس کی موافقت روایت کرے خصوصًا جبکہ اس میں لوگوں کے لئے زیادہ نرمی اور زمانے کے ساتھ زیادہ موافقت موجود ہو۔تحقیق عمریں کم ہو گئیں اور موتیں جلدی واقع ہونے لگیں۔اﷲ تعالٰی ہمیں کافی ہے اور کیاہی اچھا کارسازہے۔اسی لئے ہم نے اپنے تمام فتاوٰی میں اس پراعتماد کیا اور توفیق اﷲ تعالٰی ہی کی ہے۔ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور ابو یعلٰی نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تخریج کی،ان دونوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:میری امت کی عمریں ساٹھ اورسترسال کے درمیان ہوں گی بہت کم ان میں سے ایسے ہوں گے جو اس سے آگے بڑھیں۔اس کی سند حسن ہے جیسا کہ فتح الباری میں حافظ نے اس پرنص کی ہے۔(ت) |
امام محقق علی الاطلاق مالك ازمۃ الترجیح والفتیافتح القدیر میں فرماتے ہیں:
|
عندی الاحسن سبعون لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام اعمار امتی مابین الستین الی |
میرے نزدیك سب سے بہتر سترسال والا قول ہے۔نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ میری امت کی عمریں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع