30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مفقودکاحصہ پاسکتی ہے یانہیں؟ اگرپاسکتی ہے توکس قدر؟ اور لڑکیوں کاحصہ کیا ہوگا؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
وہ لڑکا کہ حیات مادر میں مفقودالخبرہوگیا ترکہ مادرمیں مثل میت ہے۔
|
فی التنویر میت فی حق غیرہ فلایرث من غیرہ[1]۔ |
تنویرمیں ہے مفقودالخبرغیر کے حق میں مردہ ہوتاہے لہٰذا وہ غیرکاوارث نہیں بنے گا۔(ت) |
توجب تك بعد وفات مادر اس کازندہ رہناشرعًا ثابت نہ ہوجائے اس کی زوجہ وغیرہ مدعیان ارث مفقود کوترکہ مادری سے اس کے حصہ کامطالبہ ہرگزنہیں پہنچتا کہ بے اس ثبوت کے شرعًا خود اسے ترکہ مذکورہ سے کچھ نہ ملے گا اس کے ورثہ کو بذریعہ توریث بالواسطہ پہنچنا کیامعنٰی،بلکہ وہ ترکہ برتقدیر عدم موانع ارث و وارث آخر وتقدم مقدم کالدین والوصیۃ،چوبیس سہام پر منقسم کریں ہرپسر موجود کو چھ ہردختر کوتین دے کرچھ موقوف رکھیں یہاں تك کہ عمرمففقود سے سترسال کامل گزرجائیں یعنی وہ مدت منقضی ہوکہ اگرزندہ ہوتا توستر۷۰ برس کاہوجاتا مثلًا وقت فقدان بست ۲۰سالہ تھا اور مفقود ہوئے تیس ۳۰ برس ہوئے تو بیس برس اورانتظار کریں یاپینتیس ۳۵ سال کی عمرمیں گمااب پچیس۲۵ گزرے تودس۱۰ برس۔
|
ھذا احسن مایصار الیہ ویعول علیہ فانہ المؤید بالحدیث و شاھد حال الزمان للحدیث ان المرمٰی ھٰھنا ھو حصول الظن لیس الا فانہ لاسبیل الی الیقین فتقدیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خیرمن تقدیر غیرہ وقد نص العلماء کشارحی المنیۃ العلامۃ المحقق محمد بن |
اور یہ بہتر ین قول ہے جس کی طرف رجوع کیاجائے اور اس پربھروسا کیاجائے کیونکہ حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے اور حال زمانہ حدیث کا شاہد ہے کیونہ یہاں عمرکی حد مقررکرنا محض گمان غالب کی بنیاد پرہے کیونکہ یہاں یقین کی کوئی صورت نہیں۔پس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اندازہ مقررفرمانا غیرکے اندازے سے بہترہے۔اورعلماء نے نص فرمائی ہے جیسا کہ منیہ کے دوشارحین علامہ محقق محمد بن امیر الحاج نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع