30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
ان کی یہ درخواست مہمل وناقابل سماعت ہے اول توحیات مالك میں اس مال کاکوئی وارث نہیں اور بعد موت کب معلوم کون زندہ ہوگاکون مردہ،اوراگرعورت کے بعد پوتا اور بھتیجے سب باقی رہے توپوتاہی وارث ہوگا۔بھتیجے اس کے ہوتے کچھ نہ پائیں گے تومحجوب الارث خود بھتیجے ہوں نہ کہ پوتا۔پوتا اپنے دادی دادا کاخود وارث ہے نہ بواسطہ پدر کہ ان کے پہلے مرجانے سے یہ محجوب الارث ہوجائے،یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔عورت کو ہرگزجائزنہیں کہ پوتے کو محروم کرنے کے لئے اپنامال بھتیجوں کولکھ دے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من فرّ من میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیٰمۃ،والعیاذباﷲ تعالٰی،رواہ ابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ[1]۔واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔ |
جو اپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالٰی روزقیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے۔(اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ اس کو ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم |
مسئلہ ۲۸: ازلکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ابوالخیر محمدجان صاحب ۱۹ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
علمائے دین رحمہم اﷲ تعالٰی اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ مثلًا زید کے تین لڑکوں اور دولڑکیوں میں سے ایك لڑکا بحیات والدین بالکل مفقودالخبرہوگیا پچیس تیس برس سے اس کاکہیں پتانہیں،اس درمیان میں پہلے اس کے والد نے پھر اس کی والدہ نے انتقال کیا اب زید متوفی کے لڑکے اپنے والدین متوفیین کے متروکہ کو حسب ہدایت شرع شریف تقسیم کرنا چاہتے بلکہ ماں کے متروکہ کو کیونکہ جائداد ماں کے نام ہے لیکن اس مفقودالخبرلڑکے کی زوجہ جو ہنوز زندہ ہے عذرکرتی ہے کہ میرے زوج مفقودالخبر کابھی حصہ لگاؤ اورچونکہ وہ نہیں ہے لہٰذا حصہ وہ مجھے دو،پس استفسار کیاجاتا ہے کہ ابن مفقودالخبر کی زوجہ عندالشرع زوج
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع