30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للقائل بالمنع معلوم ضرورۃ من الدین ان نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکذٰلك سائر اخوانہ من الانبیاء والمرسلین وکذٰلك سائر اخوانہ من الانبیاء والمرسلین والملٰئکۃ المقربین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیھم اجمعین کلھم طیبون نظیفون یحبون الطیب ویکرھون الروائح الکریھۃ ثم لم یورث ھذا فی الثوم والبصل واخواتھما من المباحات حرمۃ ولامنعًا مع مانطقت بہ الاحادیث الجلیلۃ الصحیحۃ مسموعات الصحابۃ الکرام فی الیقظۃ مرویات الائمۃ الاعلام علی جمادۃ الحجیۃ فی الشریعۃ من قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اکل الثوم والبصل والکراث فلایقربن مسجدنا [1] و غیرذٰلك من الاحادیث فکیف بحکایۃ منام یحکیھا بعض المتأخرین عن بعض من لم یسم وھذا سیدنا جابر بن عبداﷲ الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنھما راویا ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال من اکل ثوما اوبصلا فلیعتزلنا اوقال فلیعتزل مسجدنا ولیقعد فی بیتہ وان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اُتی بقدر فی خضرات من بقول |
قائل کے لئے کوئی دلیل معلوم نہیں ہوتی یہ بات ضروریات دین سے معلوم ہوتی ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،یونہی دیگرانبیاء ومرسلین اورملائکہ مقربین علیہم الصلٰوۃ والسلام تمام کے تمام صاف ستھرے ہیں،خوشبو کوپسند اوربدبوکاناپسندکرتے ہیں۔پھرمحض بدبوکاپایاجانا توتھوم اور پیازوغیرہ مباح اشیاء میں بھی حرمت وممانعت کوثابت نہیں کرتا باوجودیکہ اس پر وہ عظیم الشان احادیث صحیحہ وارد ہیں جو صحابہ کرام نے بیداری کی حالت میں سنی ہیں اورائمہ اعلام سے اس طریقے پرمروی ہیں جوشریعت میں حجت ہے،جیسے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ جس نے تھوم،پیاز اورگندنا کھایا وہ ہرگز ہماری مسجدکے قریب نہ آئے،اس کے علاوہ دیگراحادیث مبارکہ۔توپھرنیند کی حالت کی حکایت سے کیسے حرمت ثابت ہوسکتی ہے جس کوبعض متأخرین نے بعض نامعلوم حضرات سے حکایت کیا۔ سیدنا حضرت جابربن عبد اﷲ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا جس نے تھوم یاپیاز کھایا وہ ہم سے یاہماری مسجد سے الگ رہے اوراپنے گھر میں بیٹھے۔نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں ایك ہنڈیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع