30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من مجوزات المیل الٰی روایۃ النوادر علٰی خلاف ظاھرالروایۃ کما نصوا علیہ مع تصریحھم بان ما یخرج عن ظاھرالروایۃ فھو قول مرجوع عنہ وما رجع عنہ المجتہد لم یبق قولا لہ [1] وقد تشبث العلماء بھٰذا فی کثیر من مسائل الحلال والحرام ففی الطریقۃ وشرحھا الحدیقۃ فی زماننا ھذا لا یمکن الاخذ بالقول الاحوط فی الفتوی الذی افتی بہ الائمۃ وھو مااختارہ الفقیہ ابواللیث انہ ان کان فی غالب الظن ان اکثرمال الرجل حلال جاز قبول ھدیتہ ومعاملتہ والالا[2] اھ ملخصا،وفی ردالمحتار من مسئلۃ بیع الثمار لایخفی تحقق الضرورۃ فی زماننا،ولاسیما فی مثل دمشق الشام،وفی نزعھم عن عادتھم حرج،وماضاق الامر الااتسع ولایخفی ان ھذا مسوغ للعدول عن ظاھر الروایۃ[3] اھ ملخصا، وفی مسئلۃ العلم فی الثوب |
ظاہرالروایہ کے خلاف روایت نوادر کی طرف میلان کے لئے بھی مجوز ہے جیساکہ علماء نے نص فرمائی باوجودیکہ وہ تصریح فرماچکے ہیں کہ جوقول ظاہرالروایۃ سے خارج ہے وہ مرجوع عنہ ہے اور جس قول سے مجتہد رجوع کرلے وہ اس کا قول نہیں رہتا،علماء نے بہت سے مسائل حلال وحرام میں اس سے استدلال کیا ہے۔طریقہ اور اس کی شرح حدیقہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں قول احوط کولیناجس پرائمہ کرام نے فتوٰی دیاہے ممکن نہیں۔اسی کوفقیہ ابواللیث نے اختیارفرمایا ہےکہ اگرکسی شخص کے اکثر مال کے حلال ہونے کاگمان غالب ہو تواس کاہدیہ قبول کرنا اوراس کے ساتھ معاملہ کرنا جائزہے ورنہ نہیں اھ اختصار،اورردالمحتار میں پھلوں کی بیع کے مسئلہ میں ہے ہمارے زمانے میں اس کی ضرورت کا متحقق ہونا پوشیدہ نہیں خصوصًا شام کے شہردمشق میں،اور ان کو عادت سے ہٹانے میں حرج ہے،اورکوئی تنگ معاملہ نہیں جس میں وسعت نہ آئے،مخفی نہیں کہ یہ بات ظاہر الروایہ سے عدول کی مجوز ہے اھ تلخیص۔اورکپڑے پرنقش و نگار کے مسئلہ میں ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع