30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ تھا بقال نے یہ کہا تھا کہ یہاں خود ہی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان سے میں کیالے لوں ہم سب بہن بھائی چھوٹے تھے میں شِیر خوار تھا اب والدہ صاحبہ کے فرمانے پرمجھے خیال ہواکہ میں بفضلہ تعالٰی بطفیل نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس وقت اس قابل ہوں کہ ان کاقرض معلوم ہونے پراداکروں بدریافت معلوم ہواکہ جس سے قرض لیاتھا وہ مرگیا اوراس کالڑکابھی مر گیا جس ضامن مسلمان کی معرفت لیا تھا ان کابھی انتقال ہوگیا یہ بھی نہیں معلوم کہ انہوں نے توادا نہیں کردیا والدہ کو اس کا بھی علم نہیں ہے ایك سال سے برابردریافت،تلاش کی کہ اس کے وارث کا پتہ چل جائے تواداکروں اب تك کوئی وارث اس کانہیں معلوم ہوا ایسی حالت میں شرع شریف سے کیاحکم ہے کہ میرے باپ پرقیامت میں اس قرض کابار نہ رہے بقال سے ہمیشہ بلا سودی لین دین تھا سوا اس روپیہ کے۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جبکہ یہ قرض تھا آپ کے والد پراصلًا بیس روپے واجب الاداتھے،
|
قال اﷲ تعالٰی " یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ"[1] |
اﷲتعالٰی نے فرمایا:اے ایمان والو! وعدے پورے کرو۔ (ت) |
اور جبکہ پہلے کبھی اس سے سودوغیرہ کوئی رقم ناجائزنہ لی تھی تواس کے کل یابعض اس سے مجرا بھی نہیں ہوسکتے اس کایہ کہنا کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان سے کیالوں آپ کے والد کومطالبہ سے بری کرنانہیں تھا ضامن اگراداکردیتا تو اس ضامن مسلم کا دین رہتا وہ اس سے آسان تھا یہاں وہ بھی معلوم نہیں لیکن جبکہ بنیا اوراس کابیٹابھی مرگیا اوراس کے وارث کاپتہ نہیں یہ مال فقراء کے لئے ہوا آپ کسی مسلمان فقیر کوکہ مالك نصاب نہ ہو بیس روپے دے دیجئے نہ اس نیت سے کہ اس کافرکو ثواب پہنچے کہ یہ حرام بلکہ کفرہے بلکہ اپنے والد پر سے مطالبہ اتارنے کی نیت کیجئے یہ فقیر غیر شخص ہوناضروری نہیں بلکہ اگر آپ کی والدہ چھپّن روپے کے مال کی مالك نہ ہوں تو انہیں کو اس نیت دے دیجئے کہ بیس روپے اس بنیئے کے جو والد پرقرض تھے اور وارث کوئی نہ رہا وہ قرض اداکرتا ہوں بعونہٖ تعالٰی وہ بری الذمہ ہوجائیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع