30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرح فقہ اکبربحث توبہ میں ہے کہ:
|
اذا غصب مسلم من ذمی مالا اوسرق منہ فانہ یعاقب بہ یوم القیٰمۃ لان الذمی لایرجی منہ العفو فکانت خصومۃ الذمی اشد[1]۔ |
جب کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیایاچرایا تو اس کی وجہ سے اس کو قیامت کے دن عذاب دیاجائے گا کیونکہ ذمی سے عفو کی توقع نہیں لہٰذا ذمی کی خصومت زیادہ سخت ہے۔ |
مگریہ اسی حالت میں ہے جبکہ بدلہ لیناہی مشیت رب العزۃ عزجلالہ ہو،ورنہ ممکن ہے کہ وہ کافرکے دل میں ڈالے کہ معاف کردے یاکسی تخفیف کے بدلے اس سے معاف کرادے،
|
فانہ اذاجاز التخفیف عنہ بظلمات لہ قبل الناس کما فی الجواھر فلیجزایضًا جزاء العفو تخلیصا للمسلم وقد قال الطحطاوی ثم الشامی عند قول الدر من الحظر قبیل مسائل المسابقۃ،ظلم الذمی اشد من ظلم المسلم[2] مانصہ لانہ یشدد الطلب علی ظالمہ لیکون معہ فی عذابہ ولامانع من طرح سیئات غیرالکفر علی ظالمہ فیعذب بھا بدلہ ذکرہ بعضھم[3] اھ فکذا لامانع من ان یقال لہ ان یفوت من المسلم طرحنا منك کذا وکذا من سیئاتك فیعفو۔ |
اس لئے کہ جب لوگوں کی ذمی پر زیاتیوں کی وجہ سے اس کے عذاب میں تخفیف جائز ہے جیساکہ جواہرمیں ہے تویہ بھی جائزہے کہ اﷲ تعالٰی مسلمانوں کی خلاصی کے لئے ذمی کو معاف کرنے کا کچھ بدلہ دے کراس کی خلاصی کرادے۔ طحطاوی نے کہا پھرشامی نے در کے خطرمیں مسائل سابقہ سے تھوڑا پہلے اس قول کہ"ظلم ذمی ظلم مسلمان سے اشد ہے" پرکہا یہ اس لئے ہے کہ ذمی اپنے اوپر ظلم کرنے والے پرسخت مطالبہ کرے گا تاکہ وہ ظالم بھی اس کے ساتھ عذاب میں شریك ہو اور کفرکے سوائے ذمی کے گناہ ظالم پرڈالنے میں کوئی مانع نہیں چنانچہ وہ ان کے بدلے عذاب میں مبتلاہوگا،اس کو بعض علماء نے ذکرکیا ہے اھ اسی طرح اس سے بھی کوئی مانع نہیں کہ ذمّی کوکہاجائے اگرتو مسلمان کومعاف کر دے توتیرے یہ یہ |
[1] منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر ومنہا بحث التوبۃ الخ مصطفی البابی مصر ص۵۹۔۱۵۸
[2] الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
[3] ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۵۷،حاشیۃ الطحطاوی علٰی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۰۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع