30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الذمی یوم القیٰمۃ فظلامۃ الکافر اشد من ظلامۃ المسلم لان الکافر من اھل النار ابدا ویقع لہ التخفیف بالظلامات التی قبل الناس فلایرجی منہ ان یترکھا اوالمسلم یرجی منہ العفو[1]۔ |
قیامت کے روز اس سے خصومت کرے گا لہٰذا کافرپرظلم مسلمان پر ظلم سے سخت ترہے کیونکہ کافر دائمی جہنمی ہے اور لوگوں کی اس پرجو زیادتیاں ہیں ان کے سبب سے اس کے عذاب میں تخفیف ہوگی لہٰذا اس سے یہ امیدنہیں کہ وہ ان زیادتیوں کومعاف کرے گا،البتہ مسلمان سے معافی کی توقع جاسکتی ہے۔(ت) |
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ بیان آفات الرجل میں ہے:
|
الفقھاء قالوا ان العذاب یوم القیٰمۃ علی الانسان فی حق الحیوان متعین لانہ لایمکن المسامحۃ ولا القصاص بالحسنات والسیئات وکذا الذمی اذاطلمہ المسلم فان العذاب فیہ متعین ان لم یستحل منہ فی الدنیا قال الوالد رحمہ اﷲ تعالٰی فی شرحہ علی شرح الدرر مسلم غصب اوسرق مال ذمی یؤخذ بہ فی الاٰخرۃ وظلامۃ الکافر وخصومتہ اشد لانہ اما ان یحملہ ذنبہ بقدرحقہ اویاخذ من حسناتہ والکافر لایاخذ من الحسنات ولا ذنب للدابۃ ولا تؤھل لاخذ الحسنات فیتعیّن العقاب[2] اھ باختصار۔ |
فقہاء نے فرمایاہے حیوان پر ظلم کی وجہ سے قیامت کے روز انسان پرعذاب کاواقع ہونامتعین ہے کیونکہ اس میں معافی اورنیکیوں اوربرائیوں سے بدلہ ممکن نہیں۔ایساہی ذمی جس پرمسلمان نے ظلم کیاہوتو اس مسلمان پرعذاب متعین ہے جبکہ دنیامیں اس سے معاف نہ کرالیاہو۔حضرت والد رحمہ اﷲ تعالٰی نے شرح الدررپر اپنی شرح میں فرمایا کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیا یاچرایا تو اس پرآخرت میں مؤاخذہ ہوگاحالانکہ ذمی کا ظلم وخصومت سخت ترین ہے کیونکہ یاتو وہ اپنے گناہ اپنے حق کے مطابق مسلمان پرڈالے یا اس کی نیکیاں لے حالانکہ کافرنہ تو مسلمان کی نیکیاں لے سکتا ہے اورنہ اس کے گناہ مسلمان پرڈالے جاسکتے ہیں، چارپائے کاکوئی گناہ نہیں ہوتا اور نیکیوں کاوہ اہل ہی نہیں لہٰذا عذاب متعین ہوا اھ اختصار(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع