30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورفرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم:
|
من ادان دیناینوی قضاءہ اداہ اﷲ عنہ یوم القیٰمۃ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر[1] عن میمونۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا بسند صحیح۔ |
جوکوئی دین اپنے ذمہ کرے اوراس کی ادا کی نیت رکھتاہے اﷲ عزوجل روزقیامت اس کی طرف سے ادافرمادے(اس کی طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے بسندصحیح روایت کیا۔ت) |
اوراگربدنیتی اورناجائز طریقے سے لیاتوضرورگناہ وحق العبدہے ذمی کامال معصوم ہے اور وہ ان حقوق میں مثل مسلمانوں کے سمجھاجاتاہے اس صورت میں علماء فرماتے ہیں کہ اس کابدلہ عذاب ہی ہے،والعیاذباﷲ تعالٰی۔ولہٰذا فرماتے ہیں کہ ذمّی کاحق مسلمان کے حق سے سخت ترہے۔فتاوٰی خانیہ آخرکتاب الغصب میں ہے:
|
مسلم غصب من ذمی مالااوسرق منہ فانہ یعاقب بہ یوم القیٰمۃ لانہ اخذ مالامعصوما والذمی لایرجی منہ العفو ویرجی ذٰلك من المسلم فکانت خصومۃ الذمی اشد وعندالخصومۃ لایعطی ثواب طاعۃ المسلم الکافر لانہ لیس من اھل الثواب ولاوجہ ان یوضع علی المسلم وبال کفرالکافر فیبقی فی خصومتہ۔[2] |
کسی مسلمان نے ذمی کامال غصب کیایاچوری کیاتوروزقیامت اس کو سزادی جائے گی کیونکہ اس نے مال معصوم لیا حالانکہ ذمی سے معافی کی امیدبھی نہیں کیونکہ وہ تومسلمان سے متوقع ہے،لہٰذا خصومت ذمی زیادہ شدیدہے۔خصومت کے وقت مسلمان کی عبادت کا ثواب کافرکو نہیں دیاجائے گا کیونکہ وہ ثواب کا اہل نہیں اورنہ ہی کفرکافرکاوبال مسلمان پرڈال دینے کی کوئی وجہ ہے لہٰذا اس کی خصومت برقرار رہے گی۔(ت) |
جواہرالاخلاطی کتاب الاستحسان میں ہے:
|
لم غصب المسلم من ذمّی اوسرق منہ یعاقب المسلم ویخاصمہ |
اگرمسلمان نے ذمی سے کچھ غصب کیایا اس کی چوری کی تومسلمان کوسزادی جائے گی اورذمی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع