30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وغیرہما میں ہے:
|
لواستغرقھا دین لایملکھا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء امالواداہ من مال نفسہ مطلقًا بشرط التبرع اوالرجوع یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین فلایملکھا۔[1] |
اگرقرض میت کے ترکہ کومحیط ہوتوکوئی اس ترکہ کابطور میراث مالك نہیں بنتامگریہ کہ جب قرضخواہ میت کو قرض سے بری کردے یامیت کاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کے ساتھ اس قرض کواداکردے،ہاں اگر کوئی اپنے مال سے اس قرض کو اداکردے بغیرتبرع یا رجوع کی شرط کے،تو اس کے لئے میت پرقرض ثابت ہوجائے گا تواس طرح ترکہ قرض میں مشغول ہوجائے گا۔چانچہ وارث اس کامالك نہیں بنے گا۔(ت) |
نیزاشباہ میں ہے:
|
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا۔[2] |
وارث کواختیارہے کہ وہ قرض اداکرکے ترکہ کوچھڑالے اگرچہ قرض ترکہ کومحیط ہو(ت) |
خلاصہ میں ہے:
|
المرأۃ تاخذ مھرھا من الترکۃ من غیررضی الورثۃ ان کانت الترکۃ دراھم اودنانیر وان کانت الترکۃ شیأ یحتاج الی البیع فتبیع ماکان یصلح وتستوفی صداقھا ان کانت الوصیۃ من جہۃ زوجھا اولم تکن[3]۔ |
عورت اپنامہروارثوں کی رضامندی کے بغیر ترکہ میں سے لے سکتی ہے اگرترکہ درہموں یا دیناروں کی صورت میں ہو۔ اور اگرترکہ ایسی شیئ ہے جس کوبیچنے کی ضرورت ہے تو وہ اس چیز کو بیچ لے جس میں بیع کی صلاحیت ہے اوراپنامہر پوراوصول کر لے،شوہرکی طرف سے اس کی وصیت ہویانہ ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع