30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فلاں عورت غائب کا اس مردحاضر سے نکاح کردیا اوریہ شخص نکاح کرنے والا اس عورت کاشرعی ولی نہیں ہے اورپھراس عورت کو اس طرح نکاح کردینے کی خبرپہنچی اس عورت نے اس کوقبول ومنظورکرلیا توکیایہ نکاح جائزومکمل ہوجائے گا اوراگرمہر کی تعدادبیان نہیں کی گئی کہ کس قدرمہرواجب ہوگا؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
اگراُس مردحاضرنے اسی وقت قبول کرلیاتھا تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا بشرطیکہ یہ مردحاضر اس عورت کاکفوہو نسب، مذہب، چال چلن،پیشے کسی بات میں ایساکم نہ ہو کہ اس سے اس عورت کانکاح عورت کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعارہو،یاعورت کوئی ولی رکھتی ہی نہ ہو،ان صورتوں میں جبکہ عورت نے خبرپاکر اس نکاح کوقبو کرلیا نافذوتام ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
|
الفضولی کل تصرف صدرمنہ کتزویج اوطلاق ولہ مجیزحال وقوعہ انعقد موقوفا۔[1] |
فضولی سے جوتصرف صادرہو جیسے کسی کی شادی کرنایاطلاق دینااور اس کے وقوع کے وقت کوئی اس کی اجازت دینے والا موجودہوتو اس کاانعقاد موقوف ہوجاتاہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
ای علی اجازۃ من یملك ذٰلك العقد۔[2] |
یعنی اس شخص کی اجازت پرموقوف ہوتاہے جواس عقد کامالك ہے۔(ت) |
ہاں اگر جس سے نکاح ہواکفو بمعنی مذکورنہ تھا اورعورت کاکوئی ولی زندہ تھا اوراس نے پیش ازنکاح شخص مذکورکوغیرکفوجان کرصراحۃً ا س نکاح کی اجازت نہ دی تھی تویہ نکاح سرے سے باطل ہوا،عورت کی اجازت سے جائزنہیں ہوسکتا، درمختارمیں ہے:
|
یفتی فی غیرالکفوبعدم جوازہ اصلا[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
غیرکفو میں اس کے بالکل عدم جواز کافتوی دیاجاتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع