30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بموجودگی متوفیہ فوت ہوگیا۔
الجواب:
سائل نے بیان کیاہے کہ متوفیہ نے اپنی موت سے چارمہینے پیشتربھائی کے ہاتھ بیع کی وہ اس وقت بھی بعارضہ دق مبتلا تھی اور حالت خطرناك تھی،اگریہ بیان صحیح ہے تووہ بیع معتبرنہیں،
|
لان البیع من وارث فی مرض الموت لایصح عند الامام وان کان بمثل القیمۃ۔ |
اس لئے کہ مرض الموت میں وارث کے ہاتھ بیع امام اعظم کے نزدیك جائزنہیں اگرچہ مثلی قیمت کے ساتھ ہو۔(ت) |
زیور واثاث البیت جوشوہرنے بنادیاتھا اگرعورت کومالك نہ کردیاتھا تواس کامالك شوہرہی ہے اس میں وراثت جاری نہ ہوگی اوراگرمالك کرکے قبضہ دے دیاتھا عورت کاہے جس طرح وہ جہیزکہ باپ کے گھر سے لائی،ان اشیاء کی نسبت بہن اوربھائی کے لئے عورت کی جووصیت بتائی جاتی ہے بے اجازت شوہر باطل ہے،
|
لحدیث صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔[1] |
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے کہ بیشك اﷲ تعالٰی نے ہرحقدارکو اس کاحق عطافرمادیا ہے،خبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت) |
ان احکام کے لحاظ سے جوترکہ متوفاۃ کاٹھہرے مع مہراگرذمہ شوہرہو حسب شرائط فرائض چھ۶ حصے ہوکر تین حصے شوہر اوردوسہم برادراورایك بہن کوملے گا بھتیجے بھتیجی کاکچھ حق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۰: ازبریلی صدربازار مسئولہ عبدالغفورخاں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بازاری عورت نے ایك بزرگ کے ہاتھ پراپنے پیشہ سے توبہ کی اورسلسلہ بیعت میں داخل ہوئی اورمرنے تك اس پرقائم رہی اور
[1] سنن ابی داؤد کتاب الوصایا ۲/ ۴۰ وجامع الترمذی ابواب الوصایا ۲/ ۳۳،سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا ص۱۹۹ وسنن النسائی کتاب الوصایا ۲/ ۱۲۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع