30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)اصلًا معتبرنہیں،
|
البیّنۃ علی المدعی والیمین علی من انکر[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
گواہ مدعی پراورقسم منکرپرہوتی ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۷۸: نعمت علی خاں بوڑرھا ازپنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پورضلع مظفرپور ۹محرم الحرام۱۳۳۹ھ
اگرباپ نے بیٹے سے وصیت کی کہ اتناروپیہ یااتنی زمین یاکوئی سامان فلاں کودینا،بیٹے نے نصف یاتہائی یاچوتھائی وصیت اداکیا توبیٹاقیامت کے دن جوابدہ ہوگا یانہیں؟اگربیٹے نے موصی لہ،سے کچھ دے کربقیہ معاف کرالیاتویہ جائزہے یانہیں؟
الجواب:
اگروہ وصیت بعدادائے دین مال متروکہ کی تہائی سے زائدنہ تھی توکل کااداکرنا اس پر لازم ہے اورزائد ہے توتہائی تك کاادا کرناضروری ہے اس سے اگرکچھ کمی کرے گا ماخوذہوگا اورمعافی دَین کی ہوتی ہے۔
مسئلہ ۱۷۹: ازشہر محلہ شاہ آباد مسئولہ مسیت خاں یکم صفرالمظفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ لاولد عرصہ دراز سے بعارضہ چنددرچندبوجہ تپ کہنہ کے مبتلارہ کرفوت ہوئی اس نے اپنے وارث ایك شوہراورایك بھائی اورایك بہن حقیقی اورایك برادر زادہ اورایك بھتیجی جن کاباپ بموجودگی متوفیہ کے فوت ہوگیا ہے وارث چھوڑے،شوہرنے متروکہ متوفیہ طلب کیاتومتوفیہ کی بہن اوربھائی کہتے ہیں کہ متوفیہ کی یہ وصیت ہے کہ تم مال واسباب ازقسم زیوروزرنقد یعنی جملہ اشیاء البیت کوخود تقسیم کرلیناشوہرکونہ دینا،یہ ظاہرکرنامشارالیہم کاشوہرمتوفیہ کو وراثت سے محروم کرتاہے اگرنہیں کرتاہے توکس قدرشوہراپناحصہ بموجب شرع شریف کے پانے کامستحق ہے اورزیور اثاث البیت متروکہ متوفیہ کاجوہے وہ فراہم کردہ شوہرکاہے اورجومتروکہ متوفیہ کے والد سے پہنچاتھا وہ متوفیہ نے اپنے بھائی کے ہاتھ بیع کردیا اوریہ وصیت کردی کہ اس روپیہ سے میری تجہیزوتکفین کرنا۔
برادرحقیقی ہمشیرحقیقی،بھتیجا جس کاباپ بموجودگی متوفیہ فوت ہوگیا۔بھتیجی جن کاباپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع