30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵)گیارہویں شریف کے مہینے میں مولودشریف پڑھوانا اورکھاناکھلانے پرخرچ کرنا سالانہ پانچسوروپے۔
(۶)رمضان میں روٹی پاؤ وغیرہ مسجد میں بھیجنے پر خرچ کرنا سالانہ ایك سو پچیس روپے۔
(۷)حاجیوں کوبرائے بیت اﷲ شریف دینافی حاجی ؎ پانچ حاجیوں کوجس پرسالانہ خرچ ایك سوپچاس۔
(۸)ما سالانہ مکہ مکرمہ بھیجنا۔
(۹)مامہ عہ روپے سالانہ مدینہ طیبہ۔
(۱۰)بغدادمقدس کوسالانہ قا۔
(۱۱)حضرت پیربابا ملنگ صاحب کی درگاہ پرجوپہاڑہے پچاس روپیہ سالانہ۔
(۱۲)مہایم شریف سالانہ مہ۔
(۱۳)میلاد شریف صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیاز اورکھانا کھلانے پرخرچ کرنا سالانہ ایك ہزارروپیہ۔
اوپرلکھی ہوئی رقمیں جس جس مہینے میں خرچ کرنے کی ہیں یہ اس میں خرچ ہوسکتی ہیں یابعد بھی جائزہیں یاناجائز؟ اورجورقم میلادالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کھانے کی ہے اگر اس میں سے کچھ رقم بچالی جائے اورکسی اچھے کاموں میں صرف کی جائے مثلًا مساکین ویتیم وبیوہ اورعلمائے دین وغیرہا کوتوجائزہے یانہیں؟ اوردوسری جوچھوٹی چھوٹی رقمیں ہیں مثلًا قرآن عظیم پڑھنے والوں کی اس میں اگربڑی رقموں سے لے کرخرچ کردیں توجائزہے یاکیا،وصیت کرنے والے نے جس وقت وصیت کی اس وقت حالات اورتھی اورموجودہ حالت اورہے یعنی اس وقت قحط سالی اورہرایك شیئ گراں،اگرموجودہ حالت کومدنظررکھ کرغرباء وغیرہا کوبجائے کھاناکھلانے کے اگرنقد روپیہ دیاجائے توجائزہے یاکیا؟
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اصل حکم یہ ہے کہ سالانہ تین ہزارچھ سوتیس روپے امورخیر وسبیل اﷲ میں صرف ہوجانا لازم ہے وہ خاص صورتیں کہ زیدنے مقررکیں ان کی تعیین لازم نہیں ان مہینوں میں ہو یا ان کے غیرمیں کھاناکھلاناہو یامساکین کونقد دینا،کچھ رقم بچاکر ہویاکل،انہیں مقامات کوبھیجیں یایہاں۔ہم نے جدالممتارتعلیقات ردالمحتارکتاب الصوم میں اس بیان کو مبسوط لکھاہے وہیں سے چندحوالوں کاالتقاط کافی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع