30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۷۴: ازبمبئی پوسٹ۱۶ماہم مرسلہ عبدالمجیدصاحب دہلوی ۱۶جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی جائداد کے کرایہ کی آمدنی میں یہ وصیت کی کہ کچھ رقم معین مکہ شریف و مدینہ شریف وبغداد شریف کے سادات کو دی جائے اورباقی رقم میں چند ایام مقررہ میں طعام پکاکر مساکین کوکھلایاجائے اور کچھ رقم معین دومسجدوں میں دی جائے مگربعد فوت زید کے اس جائداد کے متولیان یہ کرتے ہیں کہ بجائے سادات کے امیروں کی سفارش سے اس رقم کوواسطے شادی کردینے ان لڑکیوں کے جن کے والدین غریب ہیں دیتے ہیں وردیگررقم معین کودو مسجدوں میں دیتے ہیں اورباقی رقم معین میں چند ایام مقررہ میں طعام پکارکر تھوڑا مساکین میں اورتھوڑا ذی ثروت لوگوں کو کھلاتے ہیں۔زید کی وصیت کے بموجب کیاجائے وہ درست ہے یاجومتولیان کرتے ہیں وہ درست ہے؟ جوکارخیر ہو،موافق حکم شریعت جواب عنایت ہو۔
الجواب:
جورقم اس نے دونوں مسجدوں کے لئے معین کی ہے وہ انہیں کودی جائے گی،جو رقم اس نے مساکین کے کھانے کے لئے معین کی ہے اس میں سے اہل ثروت کودینادرست نہیں،اورجو رقم سادات حرمین طیبین وبغدادمقدس کے لئے معین کی ہے اگر انہیں بلادطیبہ کے سادات مساکین کوبھیجی جائے توبہترہے ورنہ یہاں کے مساکین پربھی صرف ہوسکتی ہے قیدبلاد کااتباع ضروری نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۷۵: ازقصبہ ادرن ضلع قلابہ علاقہ کولین احاطہ بمبئی مرسلہ ابراہیم صاحب موتی ۱۲رمضان۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی حیات میں تین ہزارچھ سوتیس روپے کی وصیت حسب ذیل طریقہ پرکی:
(۱)اپنی زوجہ کی فاتحہ خوانی پرسالانہ تین سوروپے خرچ کرنا۔
(۲)خودکی فاتحہ پر سالانہ تین سوروپیہ۔
(۳)قرآن شریف کے پڑھنے والوں کوایك سوتیس روپے سالانہ دیاجانا۔
(۴)ماہ محرم میں مولودشریف پڑھوانا اوربارہویں محرم کوکھاناکھلانے پرخرچ کرنا،سالانہ پانچسوروپیہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع