30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یحرزوا ولم تصل الاموال الی من اخذت منہ اتکون الحربیون خصماء المسلمین فی ذٰلك عنداﷲ کلا نعلم ان الاثم فی العذر لحق الشرع لالحق الکافر۔ |
پائیں اور اس کو جمع کرکے محفوظ مقام تك پہنچانے سے قبل ہی مرجائیں توکیا اﷲ تعالٰی کے ہاں اس مال کے بارے میں وہ حربی کفارمسلمانوں سے مخاصمہ کریں گے؟ ہرگزنہیں۔ تو معلوم ہواکہ دھوکہ کی صورت میں گناہ حق شرع کی وجہ سے ہے نہ کہ حق کافر کی وجہ سے۔(ت) |
اور وہ کافرذمی ہے تواگریہ قرض اس نے سچی نیت سے لیا اور اس کے ادا کاقصدرکھتاتھا اورقدرت نہ پائی کہ مرگیا تومسلمان پر اس کے باعث عذاب نہ ہوگا کہ قرض لینا گناہ نہیں اوراداپر قادرنہ ہونا اس کافعل نہیں۔اور اﷲ عزوجل بے کسی گناہ کے عذاب نہیں فرماتا۔رہا اس کا حق اسے اﷲ تعالٰی جس طرح چاہے راضی فرمادے گا اگرچہ اس پرکسی عذاب یاہول کی تخفیف سے ہرکافر پرکفر ومعاصی سب کے سبب عذاب ہے۔قال تعالٰی:
|
"مَا سَلَکَکُمْ فِیۡ سَقَرَ ﴿۴۲﴾ قَالُوۡا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾"[1]الاٰیۃ۔ |
مسلمان کافروں سے کہیں گے تمہیں کس چیز نے جہنم میں پہنچایا تو وہ کہیں گے ہم نمازنہیں پڑھتے تھے(ت) |
جزاءکفرتخلید فی النار والعذاب ہے اس میں تخفیف امکان شرعی نہیں رکھتی،
|
فان التخفیف فی التابید ابطال لہ رأسا وفیہ تبدیل القول وھو محال۔ |
ہمیشگی میں تخفیف اس کا ابطال ہے اور اس میں قول باری تعالٰی کی تبدیلی لازم آتی ہے جوکہ محال ہے۔(ت) |
باقی بالائی عذابوں ہولوں میں حسب ارادہ الٰہیہ تخفیف سے کوئی مانع نہیں،اوررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اخذ اموال الناس یرید اداءھا ادی اﷲ عنہ۔رواہ احمد[2] والبخاری وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جولوگوں کامال بہ ارادہ ادالے اﷲ تعالٰی اس کی طرف سے ادا فرمادے(اس کو امام احمد،بخاری اورابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع