30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوبہنوں کی اولاد بھانجی بھانجے ہیں۔اب گزارش یہ ہے کہ روپیہ جمع شدہ جوبعدگوروکفن باقی بچاہے وہ بموجب کہنے مسماۃ متوفی کے صَرف کیاجائے یا وہ روپیہ اورگھرکامال اسباب ورثاء موجودہ بھائی بھانجوں پرتقسیم کردیاجائے،اورتقسیم کیاجائے تو ہرایك کا کیاحصہ ہوگا؟
الجواب:
کفن دفن بقدر سنت کے بعد جوبچااس کاتہائی خیرات کیاجائے اورزیادہ کی اجازت بھائی سے لی جائے اگرنہ دے یااجازت دینے کے قابل نہ ہومثلًا نابالغ ہوتودوتہائی بھائی کو دیاجائے بھانجی بھانجوں کاکچھ حق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: ازآگرہ محلہ قرولپاڑہ مکان ۱۷۹۵ ۱۵جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی حیات میں منجملہ اپنے زرنقد واثاث البیت کے کچھ زرنقد اپنے حقیقی بھائی خالد کے نام جمع کیا جس محکمہ میں وہ ملازم تھا اورجیساکہ اس محکمہ کاقاعدہ تھاکہ تمہارے فوت ہوجانے کے بعد یہ روپیہ کس کو دیاجائے ہرسال اس محکمہ کے قواعد کے مطابق ہمیشہ تصدیق کرتارہا جس کے نام یہ روپیہ میں نے جمع کردیاہے اسی کویہ روپیہ ملے تخمینًا دس سال بعد زیدکاانتقال ہوگیا۔زیدنے ایك زوجہ سعیدہ اوردونابالغ لڑکے رشیدوعزیز چھوڑے نیزچاربھائی حقیقی مع خالد چھوڑے رشیدچند روز بعد مرگیا جواثاث البیت اورزرنقد بقدر(سما۶۰۰)کے وزیوروغیرہ پرزوجہ تنہاقابض ہوگئی وہ روپیہ جو زیدنے خالد کے نام جمع کیاتھا اس کا مالك وہ حقیقی بھائی خالدہے یازوجہ یالڑکا؟
الجواب:
زیدکے کل متروکہ سے اول دین مہراوردیگردیون اگراس کے ذمہ ہوں اداکئے جائیں اگر کچھ باقی نہ رہے تو نہ خالد کچھ پائے گانہ کوئی وارث،اوراگربعدادائے مہرودیون کچھ باقی بچے تو اس کی تہائی میں یہ وصیت جواس نے خالد کے نام کی ہے بلارضائے دیگرورثہ نافذہوگی،اوراسی طرح اور وصیت اگر اس نے کسی کے نام کی وہ بھی اسی ثلث میں شریك ہوگا،بعدادائے دیون جوباقی بچے اس کے ثلث سے یہ روپیہ جوبنام خالد اس نے جمع کیاہے زائدنہیں توتمام وکمال زرجمع شدہ خالد کودیاجائے گاجبکہ اوروصیت اس کے معارض نہ ہو ورنہ حصہ رسدبانٹ دیں گے،اوراگریہ روپیہ اس کوکافی نہیں توادائے مہرودیون کے بعد جتنی تہائی ہو اتنی میں وصیتیں نافذہوں گی زیادہ پر ورثہ راضی نہ ہوں تو وہ نہ دلائی جائے گی۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع