30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
بالغہ کی اجازت سے صرف کرسکتاہے اورنابالغ کی شادی میں بقدر معروف خرچ کرسکتاہے اوراپنے صرف میں بطور قرض اٹھالینے کے جواز میں اختلاف ہے احتیاط بچناہے اگرصرف کرلے گا عوض دے گایالڑکی بالغہ ہوکرمعاف کردے تویہ بھی صحیح ہے۔ادب الاوصیاء میں ہے:
|
فی العمدۃ لواستقرض الوصی من مال الصبی یضمن، وعند محمد لایضمن کالاب،وفی قضاء الجامع اخذ الاب مال صغیرہ قرضًا جاز،وفی الخلاصۃ انہ ذکر فی رھن الاصل ان الاب یضمن کالوصی،وفی الخانیۃ لیس للوصی قضاء دینہ بمال الیتیم وللاب ان یقضی بہ وذکر شمس الائمۃ السرخسی عدم الجواز للاب ایضا[1]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عمدہ میں ہے اگروصی نے نابالغ بچے کے مال سے قرض لیا تو اس کاتاوان دے گا۔اورامام محمدعلیہ الرحمہ کے نزدیك وصی باپ کی طرح تاوان نہیں دے گا۔قضاء الجامع میں ہے باپ کا بطورقرض اپنے نابالغ بیٹے کامال لیناجائزہے۔خلاصہ میں ہے کہ مبسوط کی کتاب الرہن میں مذکورہے بے شك باپ وصی کی طرح تاوان دے گا۔اورخانیہ میں ہے کہ وصی کو یہ اختیار نہیں کہ یتیم کے مال سے اپنا قرض اداکرے اورباپ کوایسا کرنے کااختیار ہے۔شمس الائمہ سرخسی نے باپ کے لئے بھی عدم جواز کوذکرکیاہے۔اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۷۲: ازسہمونہ ڈاکخانہ شیش گڈھی ضلع بریلی مسئولہ عنایت اﷲ صاحب ۱۶بیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ بیوہ لاولد نے کچھ روپیہ ایك شخص کے پاس جمع کیا اورکہاکہ اس روپیہ کو تجارت میں لگاؤ اوراس کامنافع نصف مجھ کودینااورنصف تم اپنے حق محنت میں لینا اوربعد میرے مرنے کے اس روپیہ میں سے میری تجہیزوتکفین کرنا باقی جوبچے وہ خیرخیرات فاتحہ وغیرہ میں صرف کردینا۔اس کے دوبرس بعد اب مسماۃ ہندہ کاانتقال ہوا چونکہ ورثہ میں اولاد توہے نہیں شوہر کاانتقال پہلے ہوچکاصرف ایك بھائی حقیقی متوفی کا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع