30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہلسنت کی صوابدید سے کسی مصرف خیرمیں صَرف کیاجائے اوریہ صرف اس کے ہاتھ سے ہوگا جن کویہ وصیت کی تھی کہ ایساکرنا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۹: ازدرگاہ مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز ڈاکخانہ سندیلہ ضلع ہردوئی مرسلہ سیدفراست حسین صاحب یکم جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ فخرالنساء نے وفات پائی اورورثہ ذیل چھوڑے:
مسماۃ فخرالنساء ناکتخذامرد
خال خالہ جدہ یعنی نانی عم الاب ابن عم الاب اخت حقیقیہ
سید واجد علی صدیقۃ النساء والدہ سیدواجدعلی سیدمحمدذکی سیدفراست حسین قمرالنساء
لہٰذا صورت مسئولہ میں کون شخص وارث حقدارہے اوراس کاحصہ کتناہے اورکون محجوب الارث ہے نیز یہ امرواضح رہے کہ مسماۃ فخرالنساء کے قبضے میں وہ جائدادہے کہ اس کواس کے والد ریاست حسین نے پہلے اپنی زوجہ رؤف النساء یعنی مادرفخرالنساء کو دین مہرمیں دے دی،پھرمسماۃ رؤف النساء نے اپنے مرض موت میں بذریعہ وصیت نامہ کے سیدواجدعلی کوولی بناکر اپنے ہر دودخترمسماہ فخرالنساء وقمرالنساء کودے دی سیدواجد علی ماموں مسماۃ قمرالنساء نے کچہری بندوبست میں بدرخواست وبرضامندی اپنی بنام دختران فخرالنساء وقمرالنساء کے داخل خارج کرادیا۔
الجواب:
اگررؤف النساء کے یہی تین وارث تھے دودختر اورایك بھائی،اوررؤف النساء نے دختروں کے نام وصیت کی تووہ کل جائداد اس بناء پر کہ برادرنے اس وصیت کوجائزونافذکیا دونوں دختروں کی مِلك ہوگئی سیدواجدعلی کااس میں کچھ حق نہ رہا۔حدیث میں ہے:
|
لاوصیۃ للوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔[1] |
خبردار وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت) |
اب کہ فخرالنساء نے انتقال کیا نصف یہ جائداد کہ اس کاحصہ ہے اوراس کے علاوہ اورجومتروکہ فخرالنساء ہوحسب شرائط فرائض چھ سہام منقسم ہوکرایك سہم نانی اورتین سہم قمرالنساء اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع