30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں اگرشوہر وقت موت زن وارث نہ رہے مثلًا عورت کوطلاق دے دی پھروہ مرگئی تواب یہ ابراء وہبہ ثلث سے نافذہوگا وارث ہونے نہ ہونے میں وقت موت مورث کااعتبارہے۔ درمختارکتاب الوصایامیں ہے:
|
یعتبر کونہ وارثا اوغیروارث وقت الموت لاوقت الوصیۃ علی عکس اقرار المریض للوارث۔[1] واﷲ تعالٰی اعلم |
کسی کے وارث یاغیروارث ہونے کااعتبارمورث کی موت کے وقت ہوگا نہ کہ وصیت کے وقت۔یہ حکم وارث کے لئے مریض کے اقرار کے برعکس ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۶۸: ازاسلام نگرضلع بدایون مرسلہ محمدنوشہ علی صاحب سب اسسٹنٹ سرجن شفاخانہ ۸ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ہندہ نے اپنی جائداد فروخت کرکے زرثمن اپنی بھانجی کے پاس بطورامانت رکھا اوربارہا اس نے یہ وصیت اپنے دیگررشتہ داروں سے کی کہ میری خوردونوش اورمصارف تجہیزوتکفین کے بعد جس قدرروپیہ باقی رہے اس کو حسب منشاتجویز علمائے دین کسی خیراتی مصرف میں لگادیاجائے اگرمیری وصیت پرعمل نہیں کیاگیا توحشرمیں اس کے خلاف کرنے والوں کے دامنگیر ہوں گی ہندہ مذکورہ کایہی روپیہ ذریعہ اوقات بسری تھا چنانچہ اسی وجہ سے وہ کسی خیراتی کام میں نہ لگاسکی ہندہ کی حالت حیات میں اس کے کچھ رشتہ دار اورورثاء میں سے کسی سے اس کوکچھ امدانہ ملی اب ہندہ فوت ہوئی اس کے ورثاء میں سے دوبھائی اورایك بیوہ بہن اورایك بیوہ بھاوج موجودہیں بھائی دونوں مرفع حال ہیں بہن بیوہ کی خبرگیری اس کاداماد کرتاہے بیوہ بھاوج کاایك سوتیلا لڑکاہے جوبہت کم مددکرتاہے۔دریافت طلب یہ امرہے کہ بحالت مذکورہ بالاوصیت پرکہاں تك عمل ہوگا یاکل ترکہ میں یا جزوترکہ خیرات کردیاجائے گا،اوراس کاصرف کرنے کامجازکون ہوگا،آیاامین یا ورثاء اورصحیح مصرف اس کاکیاہے، اگر ورثاء میں سے کسی کوحق پہنچاتو ان کے حصص شرعی کیاہوں گے؟
الجواب:
اس کے مال میں سے اگراس پرکچھ قرض ہواداکرکے باقی کی تہائی میں یہ وصیت نافذہوگی باقی دوتہائی بہن بھائی کاحق ہے،دو حصے بھائیوں کے اورایك بہن کا،اورثلث وہاں کے علماء
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع