30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۶۵: مرسلہ مستجاب خاں صاحب از ریواڑی ضلع گوڑگانوں ۹صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ زید حج کوجاتے وقت حاجی علی جان والوں کے پاس سے سات سوروپیہ کی ہنڈوی لکھوالے گا اوران کی بہی میں یہ الفاظ لکھواگیاکہ اگرمیں یہ روپیہ ہنڈوی کے ذریعہ سے مکہ شریف میں نہ لے سکا تومسماۃ ثمرالنساء بیگم کوجومیری حقیقی بھاوج ہے برمکان مولوی محمدسعیدکوچہ پنڈت دہلی میں روپیہ مل جائے اورزبانی بھی مولوی محمد سعیدصاحب سے اوردوتین شخصوں سے کہہ گیاکہ میں نے فلاں صاحب کے یہاں سے سات سوروپے کی ہنڈوی لکھوالی ہے اوربہی میں مذکورہ بالابیان لکھوادیاہے اس کے بعد وہ جب حج کوگیاتواثنائے راہ میں زیدموت ہوگیاچونکہ متوفی کنوارا ولاولدتھا اورحقیقی بھتیجابھی نہیں چھوڑاتھا اس لئے زیدکے متروکہ مال کے اس کے چچازاد،بھتیجے عصبہ ہونے کی وجہ سے سرکاری سرٹیفکیٹ حاصل کرکے قابض ومالك ہوگئے،جائدادمتروکہ حسب ذیل ہے:
(۱)مکان مالیتی تقریبًا دوہزارروپیہ
(۲)دوہزارروپے نقدجوبنك میں جمع تھے۔
(۳)پانچسوروپے جو ڈاك خانہ میں جمع تھے۔
میزان کل چارہزارپانچ سوروپے۔
مبلغ سات سوروپے جوزیدکی بھاوج نے حاجی علی جان والوں کے یہاں سے بَہی کی تحریر کے مطابق وصول کئے تھے ان کابھی مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ہماراہی حق ہے اب سوال صرف یہ ہے کہ آیا عندالشرع وہ عصبات مذکورہ ان سات سوروپے کے مستحق ہیں یابہی کی تحریراورزبانی دوتین شہادتوں کے سبب مسماۃ مذکور ثمرالنساء بیگم اس کی مالك حقدارہے کیونکہ ہنڈوی کی رقم مذکورہ رقومات کی نسبت ایك تہائی سے کم ہے۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
زیدکاوہ لکھوانا کہنا نہ مرض الموت میں تھانہ اس میں اپنے بعدکاذکر ہنڈوی کے ذریعہ سے مکہ شریف میں نہ لے سکا معنی موت میں متعین نہیں لہٰذا کسی طرح وصیت کی حد میں نہیں آسکتا فلاں کومل جائے ہبہ وودیعت دونوں کومحتمل اورودیعت اقل تو وہی متعین،معہذا اوراگرہبہ صریح ہوتا جب بھی قبضہ ثمرالنساء بعد موت واہب ہواتوموت قبل قبضہ سے ہبہ باطل ہوگیا،
|
فی الدرالمختار من موانع الرجوع |
درمختار موانع الرجوع میں ہے کہ میم سے مراد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع