30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حواس درست نہیں رہتے ہیں اکثراوقات ایساہوتاہے،یہ بھی اطلاع کرنے کی ضرورت ہے کہ دائن کاپسرجو ہے وہ شراب خوار نہیں ہے قماربازنہیں ہے کسی طرح کی بدچلنی یاآوارگی کی بھی بالکل شہرت نہیں ہے بجائے اس کے بہت غریب اورتنگدست آدمی ہے،مرحوم کاپوتاجو ہے وہ بعمرپانزادہ سالہ ہے اورسعادت مندنیك چلن نہیں ہے اس کی آوارگی سے یہ ضروراندیشہ ہے کہ اگریہ زیور دائن کے پوتے کودیاجائے گا توضرور ضائع کردے گا،زیورقیمتی کم وبیش پانچسوروپے کا ہے،اس ہفتہ میں زیور واگزاشت ہوگیاہے اب یہ زیور دائن کے پسرکودیناچاہئے یاکہ پوتے کو؟ جواب مناسب مع دستخط ومہرمرحمت فرمایاجائے،فقط۔
الجواب:
جس نے زیور عاریت لیاتھا اسے چاہئے مالك زیور کے سب وارثوں کو جمع کرکے ان کے سپردکردے،اوراگرصرف ایك بیٹاہی اس کا وارث ہے تو اسی کو دے دے وہ وصیت اس شخص سے تعلق نہیں رکھتی،نہ یہ اسے بطورخود نافذکرنے کاکچھ اختیار رکھتاہے خصوصًا اس حالت میں کہ وہ ابھی پایہ ثبوت کوبھی نہیں پہنچی،ایك شخص اور وہ بھی ثقہ نہیں،وہ وصیت اگر مالك نے واقع میں کی ہے تو جسے کی ہے توایساکرناوہ وصی ہوااس کے ذمہ اس کی فکرہے ورثہ اگر صرف اس بیان پر وصیت تسلیم کرلیں اور سب عاقل بالغ ہوں ثلث مال میں نافذکریں اوراگرنہ مانیں تو اسے گواہان شرعی سے ثبوت دیناہوگا بے ثبوت نافذنہ کی جائے گی یہ وصیت اگرخودہی عاریۃً لینے والے کوکی ہے تو اس کے لئے یہی حکم ہے۔وھوتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۲: ازضلع نینی تال موضع درؤ اشفاق حسین خاں روزشنبہ بتاریخ ۲۶رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ مورث عثمان خان مرحوم نے ایك رقم بخیال مصرف خیر ایك عزیزامین صاحب کے امانت رکھ دی تھی جس کو بارہ برس گزرگئے ہنوزآدھی رقم موجودہے اسی زمانہ میں عثمان خاں مرحوم کے مرنے کے بعد ہی ایك لڑکے اوردوبیٹی مرنے سے کام خراب ہوگیااب ایك نورچشم اندھی اوردوپوتی اورایك بہوزندہ موجودہیں پردہ نشین اندھی لا وارث بیٹی وبہوخواہش ظاہرکرتی ہیں کہ ہمارے باپ کی خیراتی رقم امانت شدہ سے ہمارے اورہمارے دوسرے بچوں نابالغ کے خیرات میں ہے مزورمش عــــــہ معلوم ہوجائے تودوسروں کی خیرات
عــــــہ:اصل میں ایساہی ہے۔ازہری غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع