30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صرف کریں۔
اب یہاں تین قسم کی وصیتیں ہیں:
اوّل:حلیمہ بنت عائشہ کے نام اس کا حکم یہ ہے کہ عائشہ حاجی محمد کی بیٹی کہ اس کے سامنے انتقال کرگئی جیساکہ عبارت وصیت نامہ سے مفہوم ہوتا ہے جورقم کمپنی میں اس کے نام سے جمع ہے اگر وہ رقم عائشہ کی ذاتی تھی جب تو بعد وفات عائشہ حاجی محمداس میں سے صرف اپنے حصہ پدری کامالك ہوا اگر عائشہ نے وارث یہی دختر حلیمہ اورباپ چھوڑے تو بعد عائشہ نصف رقم حاجی محمد کی ہوئی اور اگرعائشہ کے اوروارث بھی رہے مثل شوہروغیرہ توحساب فرائض سے جوحصہ حاجی محمدکانکلے بہرحال یہ وصیت کہ حاجی محمد نے حلیمہ بنت عائشہ کے لئے کی وہ صرف اس حصہ پر نافذہوگی جو اس روپے میں حاجی محمدکاہوا اوراگروہ رقم عائشہ کی ذاتی نہ تھی بلکہ حاجی محمدنے اپنے مال سے اس کے نام جمع کی تھی تو اس میں دوصورتیں ہیں اس وقت اگرعائشہ نابالغہ تھی تو کل رقم عائشہ کی ہوگئی،
|
فان الجمع باسمہا تملیك ھذا عرفا وھبۃ الاب للصغیر تتم بمجرد الایجاب۔ |
بیشك اس کے نام سے جمع کرنا عرف کے اعتبارسے تملیك ہے،اورنابالغ کے لئے اس کے باپ کاہبہ فقط ایجاب سے تام ہوجاتاہے۔(ت) |
یونہی اگربالغہ تھی اورجمع کرنے سے پہلے حاجی محمد نے عائشہ کو وہ رقم دے کر قبضہ کراکر اس کے بعد جمع کی جب بھی کل رقم عائشہ کی ہوئی ان صورتوں کابھی وہی حکم ہوگاجوعائشہ کے ذاتی مال ہونے میں تھا اوراگرعائشہ اس وقت بالغہ تھی اوراسے بے قبضہ دلائے یہ رقم اس کے نام جمع کردی اورتاوفات عائشہ باذن پدر اس کے قبضہ میں نہ آئی توہبہ باطل ہوگیا،
|
لان موت احدالعاقدین قبل التسلیم یبطلھا کما فی الدر[1] وغیرہ۔ |
کیونکہ سپردگی سے پہلے عاقدین میں سے کسی ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے،جیساکہ دروغیرہ میں ہے(ت) |
اس صورت میں وہ کل رقم ملك حاجی محمد ہے اور وہ سب حلیمہ بنت عائشہ کے لئے وصیت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع