30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیع سے بچالیں۔اشباہ میں ہے:
|
للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا [1]۔ |
وارث کو حق پہنچتاہے کہ وہ میت کاقرض اداکرکے ترکہ کو بیع سے بچالے۔(ت) |
یہ سب اس صورت میں ہے کہ لوگوں کا وہ بیان معافی مہربہ ثبوت شرعی ثابت نہ ہو یعنی اگردومرد یا ایك مرد دوعورت مسلمان نمازی پرہیزگار جونہ کسی گناہ کبیرمیں مبتلاہوں نہ کسی گناہ صغیرہ میں اصرار رکھتے ہوں نہ کوئی فعل سفلہ میں آوارہ وضعی کاکرتے ہوں اوران کی عقل ویادقابل اعتماد ہو اورا س معاملہ میں ان کابیان گمان وتہمت طرفداری سے پاك ہو(کہ ان سب شرائط کی تفصیل کتب فقہ میں مذکورہے)ایسے گواہ شہادت شرعیہ دیں کہ ان کے سامنے ہندہ نے مہرمعاف کردیا تومعافی ثابت ہوجائے گی اورہندہ دعوی مہرنہ کرسکے گی اوراگرگواہوں میں ان سات شرطوں میں سے ایك بھی کم ہے توان کابیان نامقبول اوردعوی ہندہ نامسموع ونامعقول،پھربرتقدیر ثبوت معافی مہرہندہ میں دیگرورثہ کا کوئی دعوٰی نہیں یہ محض جہالت ہے معافی کے یہ معنی کہ وہ باوجود ذمہ زید پر تھاساقط ہوگیانہ یہ کہ کوئی مال زیدکوملا جس میں وارث حصہ دارنہ ہوں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵: ۲۱جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے یافتنی مبلغ نوّے روپے ذمہ بکرکے واجب الادا ہیں جس کا اقرار بکرنے زیدسے کیاکہ مبلغ نوے روپے عرصہ نوسال میں بحساب دس روپے سالانہ اداکیاکروں گا روپیہ آخرسال فصل پردیا کروں گا اگرکسی سال کاروپیہ وعدہ مندرجہ اقرارنامہ پر ادانہ کروں توکل روپیہ یکمشت فورًا اداکروں گا اورزیدکو اختیارہے کہ بشرط وعدہ خلافی ایك قسط کے،کل روپے یکشمت مجھ سے لے لے۔تواب یہ امر دریافت طلب ہے کہ درصورت وعدہ خلافی ایك قسط کے کل روپیہ یکمشت واجب الادا ہوا یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مسئلہ میں بلاشبہہ کل روپیہ یکمشت واجب الاداہوگیا۔فتاوٰی خلاصہ،فتاوٰی بزازیہ وطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
|
لوقال کلما حل نجم ولم تؤد |
اگرکہاکہ وقت مقررہ پرقسط ادانہ کی گئی تو مال |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع