30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی باقی بچے خواہ اس کی وصیت اجنبی کے لئے کی یانہ کی اس سب کاثلث نفاذوصیت اجنبی میں لحاظ کیاجائے گا وصیت نافذ انہیں اشیاء میں ہوگی جن کی وصیت اس کے لئے کی ہے ان کے ماوراء اور کسی شیئ سے کچھ نہ پائے گا ہاں وصیت حصہ شائعہ مثل ربع مال وغیرہ کی ہے توجملہ متروکہ بعدادائے دَین میں بقدر وصیت حصہ دارہوگا۔
(د)وصیت اجنبی بمازادعلی الثلث ردعلی الزوجین پرشرعًا باجماع ائمہ حنفیہ مقدم ہے اقوال اقتباس شدہ میں جوخلل وزلل ہیں اوپرواضح ہوچکے۔
(ہ)اس کامفصل جواب شافی ووافی افادہ ثانیہ عشرہ میں گزرا اورنصوص صریح سے ثابت کردیا کہ متاخرین کے نزدیك بھی ردعلی الزوجین کامرتبہ وصیت زائدہ سے دودرجے مؤخرہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
جواب استفتائے ججی خانپور
(۱)ہاں یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اوراس سے جواز وصیت پرکوئی اثرخلاف نہیں پڑتا۔
(۲)اگرثابت ہوکہ مدعیہ بعد وفات شوہروصیت شاہ محمد کوقبول کرچکی تھی جیساکہ شاہ محمدکادعوی ہے توبے اعتراض مدعیہ محض نامسموع اورشاہ محمد کے لئے وصیت اپنی اخیر حد تك جائزونافذ ورنہ اعتراض کااتنااثرہوگا کہ ثلث کل مال بعداداء الدین کی حد تك صرف مکانات واثاث البیت میں وصیت شاہ محمد نافذکرکے باقی کل مال مکان واسباب وغیرہ سب کاربع زوجہ کودیں گے پھرصرف باقی مکانات واثاث البیت شاہ محمد کوبحکم وصیت ملیں گے باقی جوکچھ بچا سب زوجہ کاہوگا وصیۃً خواہ ردًّا۔
(۳)ان زیوروں سے مدعاعلیہ کوکسی حال کوئی ذرہ نہیں مل سکتا وہ تمام وکمال عالم خاتون کے ہیں انہیں چھوڑکر باقی تمام مال کے لحاظ سے جواب نمبر۲ کاحکم جاری کریں گے مگرمکانات واثاث البیت کے سواکوئی اور زیورمتروکہ بھی شاہ محمد کے پاس ہے جیساکہ دعوی زوجہ ہے تو اس میں سے شاہ محمد کوحصہ نہ دیں گے اس کاحصہ صرف مکانات واثاث البیت میں ہوگا۔
(۴)اخراجات تجہیزوتکفین کابارترکہ خواہ عالم خاتون کے حصے پرہونے کایہاں کچھ ثبوت نہیں بلکہ صورت روداد سے ظاہرکہ وہ صرف ایك تبرع تھا کہ شاہ محمدنے اپنے محسن کے ساتھ اس کی درخواست پرکیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع