30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتا وہ صرف ایك بحث تقدیم وتاخیر ردعلی الزوجین پرتقریرہے جس پر شاہ محمد کے موصی لہ بجمیع یا بالزائد دون الکل ہونے سے کچھ اثرنہیں پڑتا اورممکن کہ وہ اس نے مشائعۃً للخصوم لکھاہو لہٰذا یہ اس کے اغلاط میں معدودنہ ہوا۔
الحمدﷲ تحقیق اپنے ذروہ علیا کوپہنچی اورتمام مسائل متعلقہ کاانکشاف منتہٰی کو۔اب بتوفیقہ تعالٰی جواب سوالات کی طرف توجہ کریں اورصرف بیان حکم پرقناعت اکثرحکم کی دلیل وسند افادات میں واضح ہوچکی،وﷲ الحمد۔
جواب استفتائے چیف کورٹ بہاولپور
(ا)اجنبی کے نام وصیت ثلث متروکہ بعداداء دین تك مطلقًا نافذہے اگرچہ ورثہ اجازت نہ دیں اورزائدعلی الثلث میں بے اجازت ورثہ نافذ نہیں اگروارث احدالزوجین کے سواہو اوراگرصرف احدالزوجین وارث ہوتو ثلث تك وصیت اجنبی تقدیمًا نافذہوگی پھرباقی کاربع یانصف زوجہ یازوج کودے کر مابقی میں بقیہ وصیت اجنبی نافذکریں گے اگرچہ زوجہ یازوج اجازت نہ دے،رہی وصیت وارث وہ بے اجازت ورثہ مطلقًا نافذنہیں اوراگرتنہا وہی وارث ہوتواس کے لئے وصیت صحیح ہے،پھراگراس کے ساتھ کسی اجنبی کے لئے وصیت بھی نہیں تووارث اگرغیرزوج وزوجہ ہے توکل مال بحکم میراث لے لے گا اسے وصیت کی حاجت نہیں،اور اگرزوج یازوجہ ہے توپہلے اپنافرض لے کرباقی میں اس کی وصیت عمل کرے گی اب بھی کچھ بچاتو اسی کوبحکم رد ملے گا۔اوراگرکسی اجنبی کے لئے بھی وصیت ہے تواگراس نے وصیت وارث کو قبول کرلیا حق تقدم کہ وصیت اجنبی کو ملتا ساقط ہوگیا ورنہ اجنبی کی وصیت ثلث مال تك اول نافذکرکے باقی سے وارث کومیراث دیں گے اگروہ وارث غیر احد الزوجین ہے کل باقی ارثًا لے لے گا اورخود اس کے لئے جووصیت تھی نفاذکامحل نہ پائے گی،اوراگراحدالزوجین ہے تو اس باقی سے اس کا فرض ربع یانصف دے کراس کے بعد جوبچے اس میں اس کی وصیت اوراگراجنبی کی وصیت ہنوزناتمام رہی تھی تو اس کے ساتھ بھی دونوں حسب حصص نافذ ہوں گے ان سے کچھ نہ بچاتوظاہرورنہ جوباقی رہا احدالزوجین کوبحکم رددے دیں گے۔
(ب)اس کاجواب سوال اول میں آگیا۔
(ج)اس کے بھی فقرہ اول کاجواب ہوگیا،اوردوم کاجواب کہ بعدادائے دین جس قدر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع