30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یکون ھذا الاقرار وصیۃ معنی۔[1] |
یہ اقرارمعنی کے اعتبارسے وصیت ہوگا۔(ت) |
اوراس سے استنباط کیاکہ وصیت بالزائد ردعلی الزوجین پرمقدم ہے اس کابھی اوّلًا وہی جواب تھا،واقول:ثانیًا یہ اقراراگرچہ قضاءً معنی وصیت میں ہوا اس لئے کہ اس کانسب ثابت نہ ہو اورنہ درجہ نسب میں جاکر مزاحم ورثہ ہوتا کما فی الدرالمختار(جیساکہ درمختار میں ہے۔ت)مگروصیت اجنبی محض سے ضرور اقوی ہے کہ دیانۃً احتمال صدق مقر رکھتا ہے ولہٰذا اسے ایك نوع قرابت گنتے ہیں۔سیدعلی السراجیہ ومجمع الانہرودرمختار وفتح المعین وغیرہا میں ہے:
|
وانما اخر ذٰلك عن المقر لہ بناء علی ان لہ نوع قرابۃ بخلاف الموصی لہ۔[2] |
تہائی سے زائدمال کے موصی لہ کومقرلہ سے مؤخر اس لئے کیاکہ مقرلہ کوایك قسم کی قرابت حاصل ہے بخلاف موصی لہ کے۔(ت) |
لاجرم وباجماع حنفیہ موصی لہ بالزائد سے اقوی اوراس پرمرجح وبالاہے توردعلی الزوجین پراس کی تقدم تقدیم وصیت بالزائد کومستلزم نہیں لیکن کلام مذکور مستصفی کسی طرح اس تاویل کو قبول نہیں کرتا کہ یہ مذہب متقدمین کے موافق ہے یہاں توخاص مسلك متاخرین ہی بیان فرمارہے ہیں توقطعًا واضح ہواکہ متاخرین اگرچہ ردعلی الزوجین کے قائل ہوئے مگرجبکہ موصی لہ بالزائد بھی نہ ہو ورنہ عدم ردعلی الزوجین پرحنفیہ کرام کااجماع ہے اسانید پیش کردئیے فتوی۴ میں صرف ایك یہی سند مستصفی مصفی ومستصفی ہے۔
فائدہ۲۷:اقول:اگراس سے بھی تسکین نہ ہوتو حاشیہ درمختار میں علامہ سیدطحطاوی کا ارشاد لیجئے،عبارت مذکورہ درمختار یردعلیھم اجماعا لفساد بیت المال[3](بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے بالاجماع ان پررَد کیاجائے گا۔ت)پرفرماتے ہیں:
|
محل ھذا التعلیل القول بالرد علی الزوجین وبنات المعتق وارحامہ فانہ اذا لم یکن من مراتب المستحقین |
اس تعلیل کامحل زوجین،معتق کی بیٹیوں اوراس کے ذوی الارحام پرردکاقول ہے کیونکہ جب مستحقین کے مراتب میں سے کوئی نہ رہا سوائے بیت المال |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع