30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہم اذا ترك المتوفی اباہ ولم یترك احدا غیرہ فلہ المال۔[1] |
اورحضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اس قول کے بارے میں روایت کیاہے کہ جب مرنے والا باپ کوچھوڑجائے اوراس کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑے توتمام مال باپ کا ہوگا۔(ت) |
عبدالرزاق نے حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
|
انہ قضی فی ام واخ من ام،لاخیہ السدس ومابقی لامہ۔[2] |
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ماں اور اخیافی بھائی کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ بھائی کو چھٹاحصہ اور باقی سب ماں کوملے گا۔(ت) |
کیاامیرالمومنین مولٰی علٰی وسیدنا عبداﷲ بن مسعود وعامہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے عہد کرامت عہد میں بھی بیت المال فاسد تھا۔
ثالثًا: احادیث صحاح وحسان سے گزرا کہ خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اصحاب فرائض پررَد فرمایا معاذاﷲ کیا زمانہ اقدس میں بھی انتظام بیت المال نہ تھا ایسے مسئلہ جلیلہ کوکہ عہدرسالت وزمانہ صحابہ سے ثابت ومستمرہے آخرزمانہ کے فساد پرمبنی کرناکس درجہ نادانی،اوردانستہ ہوتوکیسی سخت بے ادبی ہے۔ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
فائدہ۲۱:امیرالمومنین عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے رَد علی الزوجین ثابت نہیں وقائع عین موردہرگونہ احتمال ہوتے ہیں شوہر جبکہ چچا کابیٹا اورتنہاوارث ہوکل مال پائے گا نصف فرضًا نصف عصوبۃً اسے رَد سے کیاعلاقہ۔درمختارمیں ہے:
|
قال عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ یرد علیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت وجزم فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی۔[3] |
حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا زوجین پر بھی رَد کیاجائے گا۔مصنف وغیرہ نے ایساہی کہاہے۔میں کہتاہوں اختیارمیں اس پرجزم کیاہے کہ یہ راوی کاوہم ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع