30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال سعد اما انہ لایرثنی الا ابنۃ لی فاوصی بجمیع مالی قال لاقال فاوصی بنصفہ قال لاالحدیث الٰی ان قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الثلث خیروالثلث کثیر فقد ظھران سعدا اعتقدان البنت ترث جمیع المال ولم ینکر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومنعہ عن الوصیۃ بمازاد علی الثلث مع انہ لاوارث لہ الاابنۃ واحدۃ فدل ذٰلك علی صحۃ القول بالرد اذلولم تستحق الزیادۃ علی النصف بالرد تجوزلہ الوصیۃ بالنصف وفی حدیث عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورّث الملاعنۃ ای جمیع المال عن ولدھا ولایکون ذٰلك الابطریق الرد وفی حدیث واثلۃ بن الاسقع انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال تحرز المرأۃ میراث لقیطھا وعتیقھا |
عیادت کرنے تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہاسوائے ایك بیٹی کے میراکوئی وارث نہیں،کیامیں اپنے تمام مال کی وصیت کردوں؟ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاکہ نہیں۔انہوں نے عرض کی:نصف کی وصیت کردوں؟ آپ نے فرمایا:نہیں(الحدیث)یہاں تك کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:تہائی بہترہے اورتہائی بہت ہے۔اس حدیث سے ظاہرہواکہ حضرت سعدرضی اﷲ تعالٰی عنہ کااعتقاد تھاکہ بیٹی تمام مال کی وارث بن سکتی ہے اور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انکارنہیں فرمایا اورآپ نے تہائی مال سے زائد کی وصیت سے انہیں منع فرمایاباجودیکہ سوائے ایك بیٹی کے ان کاکوئی وارث نہیں تھا،تویہ دلیل ہے اس بات پرکہ ردکاقول صحیح ہے کیونکہ اگروہ بیٹی بذریعہ ردنصف سے زائد کی مستحق نہ ہوتی تو ان کے لئے نصف کی وصیت جائزہوتی۔عمروبن شعیب اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعان والی عورت کو اپنی ولد کے تمام مال کا وارث بنایا۔اوریہ بذریعہ رَد ہی ہوسکتاہے۔اورواثلہ بن اسقع کی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاکہ عورت اپنے لقیط یعنی جوبچہ اسے گمشدہ ملاہے اور اپنے آزاد شدہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع