30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولولا ان الحکم کذٰلك لانکر علیہ ولم یقرّہ علی الخطا لاسیما فی موضع الحاجۃ الی البیان وکذا روی ان امرأۃ اتت الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقالت یارسول اﷲ انی تصدقت علی امی بجاریۃ فماتت امی وبقیت الجاریۃ فقال وجب اجرك ورجعك الیك فی المیراث جعل الجاریۃ راجعۃ الیھا بحکم المیراث وھذا ھوالرد۔[1] |
حکم ایسانہ ہوتا تو آپ ضرور انکارفرماتے اورانہیں خطاپربرقرار نہ رہنے دیتے خصوصًا جبکہ بیان کی ضرورت ہو۔یونہی مروی ہے کہ ایك عورت نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اورکہایارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیك وسلم میں نے اپنی ماں پرایك لونڈی صدقہ کی اب میری ماں فوت ہوگئی اوروہ لونڈی باقی رہ گئی تو آپ نے فرمایا تیرا اجر ثابت ہوچکا اوروہ لونڈی میراث میں تیری طرف لوٹ آئی۔تو آپ نے بطورمیراث وہ لونڈی اس کی طرف لوٹائی، اور یہی رَد ہے۔(ت) |
اقول:پہلی حدیث صحیح بخاری کی ہے اوردوسری حدیث عبدالرزاق نے مصنف اورسعیدابن منصور نے سنن اورابن جریر نے تہذیب الآثار میں اور بریدہ بن الخصیب الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے اوراس کے لفظ یہ ہیں:
|
فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لك اجرك وردھا علیك المیراث۔[2] |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لئے تیرا اجرثابت ہے اور وہ لونڈی میراث نے تیری طرف لوٹا دی۔(ت) |
یہ لفظ،لفظ مذکور تبیین سے ادل علی المقصود ہیں کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)علامہ سیدشریف نے آیت کریمہ سے استدلال کرکے حدیث اول سے اورزیادہ نفیس وجہ سے استدلال کیااوربعض اوراحادیث جلیلہ زائدکیں،فرماتے ہیں:
|
وایضا لما دخل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی سعد بن ابی وقاص یعودہ |
جب نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع