30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فائدہ۲۰:قول ذی سہم نسبی پر رَد کی علت ہمارے نزدیك فسادبیت المال ٹھہرانا افسدفاسدات ہے،اولًا:ہمارے ائمہ کے نزدیك وہ کوئی امرعارضی نہیں کہ بضرورت ماناگیا بلکہ عصوبت کے بعد حق راجح قول مستقل ہے کہ قرابت ذوی الارحام پربھی مقدم ہے نہ کہ دیگر مراتب نازلہ۔ہمارے علماء نے اسے آیت واحادیث وارشادات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت فرمایاہے نہ کہ فسادبیت المال کی ناچاری سے۔تبیین الحقائق میں ہے:
|
لناقولہ تبارك وتعالٰی واولوالارحام بعضھم اولٰی ببعض فی کتاب اﷲ وھو المیراث فیکون اولٰی من بیت المال ومن الزوجین الافیما ثبت لھما بالنص وکان ینبغی ان یکون ذلك لجمیع ذوی الارحام لاستوائھم فی ھذا الاسم الا ان اصحاب الفرائض قدموا علٰی غیرھم من ذوی الارحام لقوۃ قرابتھم الاتری انھم یقدمون فی الارث فکانوا احق بہ ومن حیث السنۃ ماروی ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دخل علی سعد یعودہ فقال یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم ان لی مالا ولایرثنی الاابنتی الحدیث ولم ینکر علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حصرالمیراث علی ابنتہ |
ہماری دلیل اﷲ تبارك وتعالٰی کایہ ارشادہے"اوررشتہ والے اﷲ کی کتاب میں ایك دوسرے سے زیادہ قریب ہیں الآیۃ"۔ اوروہ میراث ہے چنانچہ ان پررد،بیت المال سے اولٰی ہوگا اور زوجین سے بھی اولٰی ہوگا سوائے اس کے جو زوجین کے لئے نص سے ثابت ہے اورچاہئے کہ بچے ہوئے کارَد تمام رشتہ داروں کے لئے برابرہو کیونکہ اس نام میں سب برابر ہیں مگر اصحاب فرائض باقی رشتہ داروں پراپنی قرابت کی قوت کی وجہ سے مقدم ہیں۔کیاتونہیں دیکھتا کہ وہ میراث میں مقدم ہیں تو وہ رَد کے بھی زیادہ حقدارہوں گے اوریہ حکم سنت سے بھی ثابت ہے۔مروی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے توانہوں نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیك وسلم میرا کچھ مال ہے اورسوائے میری ایك بیٹی کے میراکوئی وارث نہیں (الحدیث)انہوں نے اپنی بیٹی پرمیراث کومنحصرکیااورنبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پرانکار نہیں فرمایا۔اگر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع