30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
درھم واجب ہوجائیں الخ۔(ت) |
پھراگر زیدمیعاد کے اندر زرِاصل یعنی چھ ہزارروپے اداکرے گا توبحساب دوسوپچاس روپے سالانہ اس وقت تك جتنالازم ہواہوگا اسی قدر اداکرناہوگا مثلًا پانچ برس میں روپے اداکردئیے توصرف ساڑھے بارہ سوزیادہ ہوں گے اور دوبرس میں توفقط پانچ سو اورچھ مہینے میں تو صرف سوا سو وعلٰی ھذالقیاس،تنویرالابصار ودرمختار میں ہے:
|
قضی المدیون الدین المؤجل قبل الحلول اومات فحل بموتہ فاخذ من ترکتہ لایأخذ من المرابحۃ التی جرت بینھما الابقدر مامضی من الایام وھو جواب المتاخرین قنیہ وبہ افتی المرحوم ابوالسعود افندی مفتی الروم وعللہ بالرفق للجانبین۔[1] |
مدیون نے دین مؤجل کومیعاد سے پہلے اداکردیا یا مدیون مر گیا جس کی بناپر دین حالی ہوگیا(مؤجل نہ رہا)چنانچہ میت مدیون کے ترکہ سے لے لیاگیا تواب قرضخواہ وہ نفع نہ لے جو اس کے اورمدیون کے درمیان طے پایاتھا مگربقدر ایام گزشتہ کے اوریہ ہی جواب متاخرین کاہے(قنیہ)اورمفتی روم ابو السعود آفندی نے یہی فتوٰی دیا اوردونوں جانبوں کی رعایت کو اس کی علت قراردیاہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
قولہ یأخذ من الخ صورتہ اشتری شیئا بعشرۃ نقد اوباعہ لآخر بعشرین الٰی اجل ھو عشرۃ اشھر فاذاقضاہ بعد تمام خمسۃ اومات بعدھا یأخذ خمسۃ و یترك خمسۃ[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ماتن کاقول لایخذ من الخ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی چیز دس درھم نقد کی خریدی اوردوسرے کے ہاتھ بیس درھم کے عوض دس مہینے کے ادھار پرفروخت کی۔پھرمدیون نے اگر پانچ ماہ بعد وہ مرگیا تو صاحب دین پانچ درھم نفع لے اورپانچ درہم چھوڑدے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۴: ازگوالیار ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مثلًا ہندہ کا شوہر زیدفوت ہوا اس نے مال ازقسم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع